خاندانی منصوبہ بندی وقت کا تقاضا، علماء نے پیدائش میں وقفہ ضروری قرار دیا ہے: مصطفی کمال

  اس جانب توجہ دینا ہوگی، یہ صرف حکومت کا کام نہیں، ہمارے لوگوں کو بھی سوچنا ہوگا،وفاقی وزیرصحت کاتقریب سے خطاب
اسلام آباد (آئی ا ین پی)وفاقی وزیر صحت سید مصطفی کمال نے کہا ہے کہ خاندانی منصوبہ بندی وقت کا تقاضا ہے، علماء نے فتویٰ دیا ہے کہ پیدائش میں وقفہ ضروری ہے۔ اسلام آباد میں ہیضے کی روک تھام کے 3سالہ پروگرام کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ ہسپتالوں میں 68فیصد کیسز پینے کا صاف پانی نہ ہونے کی وجہ سے آتے ہیں، صاف پانی استعمال کریں تو ہسپتالوں سے 68فیصد رش کم ہوجائے گا، مسائل کو سمجھ کر جڑ سے اکھاڑنے کی کوشش کر رہے ہیں، حکومت کو برا کہہ دینے سے یا الزام تراشی سے ہمارے بچے موت کے منہ میں جانے سے نہیں بچ سکتے، حکومت اور عوام سمیت تمام سٹیک ہولڈرز کو اپنا اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔مصطفی کمال نے کہا کہ صحت کے بنیادی نظام کو مزید مضبوط کر رہے ہیں، کوشش ہے کہ معمولی نوعیت کے امراض کا علاج مقامی سطح پر ہو، ہیلتھ کیئر کا اصل مقصد مریض کو بیمار ہونے سے بچانا ہے، جتنے بھی ہسپتال بنا لیں، بڑھتی ہوئی بیماریوں کا بوجھ نہیں اٹھایا جا سکتا، علاج سے زیادہ اہم بیماری کی بروقت روک تھام ہے۔ وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی بڑا مسئلہ ہے، علماء کہتے ہیں کہ زچگی کے دوران خواتین کو مسائل کا خدشہ ہو، یا بچوں کی پرورش میں مسائل سے متعلق ہوں تو دین اجازت دیتا ہے کہ بچوں کی پیدائش میں وقفہ کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ سالانہ 11ہزار خواتین دوران زچگی موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں، زچگی کوئی بیماری نہیں ہے، یہ حاملہ خواتین پیچیدگیوں کی وجہ سے ہلاک ہورہی ہیں، یہ دل دہلا دینے والے اعداد و شمار ہیں۔سید مصطفی کمال نے کہا کہ خطے میں دیگر ممالک زچگی کے دوران شرح اموات پر کنٹرول پاکر صحت کے مسائل سے نمٹنے کے قابل ہوئے ہیں، ہمیں بھی اس جانب توجہ دینا ہوگی، یہ صرف حکومت کا کام نہیں، ہمارے لوگوں کو بھی سوچنا ہوگا۔