ملک میں سیوریج ٹریٹمنٹ کا کوئی موثر منصوبہ موجود نہیں،68فیصد بیماریاں گندا پانی پینے سے پھیلتی ہیںوزیر صحت
صحت کے شعبے کی بہتری کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہو گا ،سی ای او ہیلیون پاکستان لمیٹڈ سے ملاقات میں گفتگو
اسلام آباد(آئی این پی )وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے کہا ہے کہ ملکی آبادی سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔ پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے ساری منصوبہ بندی ناکام ہو رہی ہے۔ہیلیون پاکستان لمیٹڈ کی چیف ایگزیکٹو آفیسر نے وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال سے ملاقات کی، جس میں انہوں نے ادویہ سازی کے شعبے میں اپنی خدمات سے متعلق بتایا۔ملاقات میں وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ صحت کے شعبے کی بہتری کے لیے ہم سب کو مل کر کام کرنا ہو گا ۔ پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی سنگین مسئلہ ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے ساری منصوبہ بندی ناکام ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان سال 2030میں بلحاظِ آبادی دنیا کا چوتھا بڑا ملک بن جائے گا۔ پاکستان میں شرح تولید 3.6 فی صد ہے، جس کو کم کر کے 2 تک لانا ہے۔وزیر صحت کا کہنا تھا کہ ملک میں سیوریج ٹریٹمنٹ کا کوئی موثر منصوبہ موجود نہیں۔ پاکستان میں 68 فیصد بیماریاں گندا پانی پینے سے پھیلتی ہیں۔ صاف پانی کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔ صاف پانی کی فراہمی کے لیے سیوریج ٹریٹمنٹ کے نظام کو رائج کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پرائمری ہیلتھ کیئر سسٹم کمزور ہے، جسے ٹیلی میڈیسن منصوبے کے ذریعے مضبوط کیا جارہا ہے۔ ہیلتھ کیئر سسٹم کو بہتر اور مضبوط بنانے کے لیے روڈ میپ تشکیل دے دیا ہے۔