حکومت نے جماعت اسلامی کا لانگ مارچ روک لیا‘منصورہ کا گھیرائو مارچ پلان کے مطابق کریں گے: لیاقت بلوچ

مولانا ہدایت الرحمن بلوچ کی قیادت میں لانگ مارچ لاہور پہنچا تھا، جس کی اگلی منزل اسلام آباد تھی‘حکومتی وفد اور جماعت اسلامی کے رہنمائوں کے مذاکرات ناکام
 بلوچستان میں کوئی محفوظ نہیں، ہمیں اسلام آباد جانے دیا جائے،حکومت گرفتارکرتی ہے تو کرلے،ہمیں ملک میں سیاسی بحران کا حل تلاش کرنا چاہیے:لیاقت بلوچ

لاہور(آئی این پی)حقوق بلوچستان لانگ مارچ کو لاہور میں داخلے کے بعد روک دیا گیا ہے، پنجاب پولیس نے منصورہ کا گھیرا کر کے قافلے کو آگے بڑھنے سے روک دیا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق مولانا ہدایت الرحمن بلوچ کی قیادت میں لانگ مارچ کا قافلہ پیر کی شب لاہور پہنچا تھا، جس کی اگلی منزل اسلام آباد تھی۔پولیس کی بھاری نفری، واٹر کینن اور پریزنر وینز منصورہ کے اطراف تعینات کر دی گئی ہیں۔ پولیس نے منصورہ آنے اور جانے والے تمام راستے بند کر دیے ہیں اور مظاہرین کو روکے جانے کی اطلاعات ہیں۔ لانگ مارچ کا آغاز پانچ روز قبل کوئٹہ سے ہوا تھا، جس کا مقصد بلوچستان کے عوام کے بنیادی حقوق کا حصول اور وفاق کی توجہ مظالم کی جانب مبذول کروانا ہے‘دریں اثناء منصورہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے  جماعت اسلامی کے نائب امیر  لیاقت بلوچ نے کہا  بلوچستان میں کوئی محفوظ نہیں، مارچ پلان کے مطابق کریں گے۔ ہمیں اسلام آباد جانے دیا جائے،حکومت اگرگرفتارکرتی ہے تو کرلے، یہاں چاروں اطراف پولیس کی بھاری نفری موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ 25جولائی کوبلوچستان سے اپنے حقوق کیلئے  نکلے تھے، بلوچستان میں کوئی بھی محفوظ نہیں،وزیراعلیٰ پنجاب نے بھی فون پربات کی، مریم نواز نے کہا کہ  وفاق کی سطح پراعلیٰ سطح کی کمیٹی بنائی جائیگی۔نائب امیر جماعت اسلامی  نے کہا کہ انشااللہ لانگ مارچ طے شدہ پلان کے مطابق آگے بڑھے گا، ہمیں ملک میں سیاسی بحران کا حل تلاش کرنا چاہیے۔قبل ازیں جماعت اسلامی اور حکومت کے درمیان مذاکرات میں حکومت کی جانب سے سینئر وزیر مریم اورنگزیب، وزیرقانون صہیب بھرت اور سلمان رفیق شریک تھے جب کہ جماعت اسلامی کی طرف سے لیاقت بلوچ، امیرالعظیم اورہدایت الرحمان بلوچ شریک ہوئے لیکن  مذاکرات کامیاب نہیں ہوئے اور جماعت اسلامی منصورہ سے حق دو بلوچستان مارچ نکالنے کے مطالبے پرڈٹ گئی۔