روس نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی پیشکش کر دی

روس نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی پیشکش کر دی

روس نے ایران سے متعلق مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی پیشکش کر دی ہے۔

 کریملن کے ترجمان دمتری پاسکوف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ روس اس تنازعے کو پرامن راستے سے حل کرنے کے لیے تیار ہے۔دمتری پاسکوف نے بتایا کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن خطے کے مختلف رہنماؤں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ موجودہ فوجی کشیدگی اور ممکنہ تنازعات کو کم کیا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر عالمی یا علاقائی سطح پر روس کی خدمات درکار ہوں تو ماسکو اس بات کے لیے تیار ہے کہ وہ اپنی سفارتی کوششوں کے ذریعے حالات کو جلد از جلد پرامن حل کی طرف لے جائے۔پاسکوف نے اس بات پر زور دیا کہ روس کا مقصد خطے میں استحکام قائم کرنا ہے اور اس حوالے سے ماسکو مختلف سفارتی اقدامات جاری رکھے گا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ روس کی یہ پیشکش ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے معاملے پر کشیدگی بڑھ رہی ہے اور عالمی طاقتیں اس بحران کو کم کرنے کے لیے مختلف سفارتی راستے تلاش کر رہی ہیں۔اس پیشکش سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ روس چاہتا ہے کہ ایران اور اس کے مخالف ممالک کے درمیان تنازع کو فوجی جھگڑے کی بجائے مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے حل کیا جائے تاکہ خطے میں مزید عدم استحکام پیدا نہ ہو۔