امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی آپشنز پر غور کرنے کے بارے میں ہے۔
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، امریکہ ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام کو نقصان پہنچانے یا اعلیٰ قیادت کو کمزور کرنے کے لیے اقدامات کا ارادہ رکھتا ہے۔ٹرمپ نے اس حوالے سے بات چیت کی ہے کہ فوجی کارروائی کی ضرورت نہ پڑے، اور انہوں نے مزید مذاکرات پر زور دیا ہے۔ دوسری جانب، ایرانی فوجی ترجمان نے کہا ہے کہ امریکہ کے پاس کوئی فوری کارروائی کا امکان نہیں ہے، اور چند گھنٹوں بعد ٹرمپ نے ٹوئٹ میں کہا کہ کارروائی ختم کردی گئی ہے۔اس دوران، پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلی فون پر گفتگو کی، جس میں انہوں نے خطے میں امن، سلامتی اور ترقی کے لیے پائیدار مذاکرات اور سفارتی حل پر زور دیا۔یہ حالات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں، جبکہ امریکہ ممکنہ فوجی کارروائی کا ارادہ رکھتا ہے لیکن اس کے برعکس ایرانی قیادت پرامن حل کی طرف مائل ہے۔