امریکی فوجی کارروائیوں کی خبریں لیک کرنے والوں کو گولی مار دینی چاہیے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی فوجی کارروائیوں کی خبریں لیک کرنے والوں کو گولی مار دینی چاہیے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی فوجی کارروائیوں سے متعلق خفیہ معلومات میڈیا کو فراہم کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے افراد کو فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت دی جانی چاہیے۔

خبر رساں رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے ریاست ایریزونا میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے امریکی فوجی کارروائیوں سے متعلق حساس معلومات افشا ہونے پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ ان کی ناراضی کی ایک وجہ ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کے وقت سے متعلق معلومات کا صحافیوں تک پہنچنا تھا۔

ایران پر حملوں سے متعلق معلومات افشا ہونے پر برہمی
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے خطاب میں اس نامعلوم ذریعے پر تنقید کی جس نے مبینہ طور پر ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کے وقت سے متعلق معلومات میڈیا کو فراہم کی تھیں۔امریکی صدر کے مطابق فوجی کارروائیوں سے متعلق خفیہ معلومات کا افشا ہونا ایک سنگین معاملہ ہے۔ انہوں نے اس عمل میں ملوث افراد کے لیے انتہائی سخت سزا کی حمایت کی، تاہم اپنے خطاب میں مبینہ ذریعے کی شناخت ظاہر نہیں کی۔

فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت دینے کا مطالبہ
ٹرمپ نے کہا کہ خفیہ معلومات افشا کرنے والوں کو فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت دی جانی چاہیے۔ انہوں نے اپنے مؤقف کی حمایت میں ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پہلے بھی اس نوعیت کے معاملات میں لوگوں کو فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے ہلاک کیا جاتا تھا۔ان کا یہ بیان فوجی رازوں کے افشا ہونے پر سخت ردعمل کی عکاسی کرتا ہے۔ تاہم، خطاب میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ آیا امریکی انتظامیہ اس معاملے میں کسی مخصوص قانونی کارروائی یا نئی پالیسی پر غور کر رہی ہے۔

مبینہ ذریعے کی شناخت تاحال سامنے نہیں آئی
امریکی صدر نے اپنے خطاب میں یہ نہیں بتایا کہ ایران پر حملوں سے متعلق معلومات کس شخص نے میڈیا کو فراہم کی تھیں۔ نہ ہی فراہم کردہ معلومات میں کسی نامزد شخص کے خلاف کارروائی کی تفصیلات موجود ہیں۔اس لیے یہ معاملہ فی الحال خفیہ معلومات افشا کرنے کے مبینہ واقعے اور اس پر صدر کے ردعمل تک محدود ہے۔ ذمہ دار شخص کی شناخت اور ممکنہ قانونی کارروائی سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔

فوجی معلومات کے تحفظ پر بحث
ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان نے فوجی کارروائیوں سے متعلق حساس معلومات کے تحفظ اور ان کے افشا ہونے پر ممکنہ سزاؤں کے حوالے سے بحث کو نمایاں کیا ہے۔قومی سلامتی سے متعلق معلومات کے غیرمجاز افشا ہونے کے معاملات میں قانونی ذمہ داری کا تعین شواہد اور متعلقہ قانون کے تحت کیا جاتا ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت کا مطالبہ ان کا بیان کردہ مؤقف ہے؛ اسے کسی عدالتی فیصلے یا امریکی حکومت کی نافذ شدہ نئی پالیسی کے طور پر نہیں لیا جانا چاہیے۔