بورڈ آف پیس میں نیک نیتی کے تحت شامل ہوئے پاکستان کسی بھی ابراہیمی معاہدے کا حصہ نہیں بنے گا دفتر خارجہ

بورڈ آف پیس کو ابراہام معاہدے سے جوڑنا غلط فہمی ہے ،یہ  غزہ اورمسئلہ فلسطین کیلئے امید کی کرن ہے،بورڈ آف پیس اقوام متحدہ کا متبادل نہیں بلکہ معاون پلیٹ فارم ہے
 ایران  کے معاملے پر پاکستان ہمیشہ پر امن طریقے سے مسائل کے حل کی بات کرتا ہے‘   امید ہے  پاکستان کو جلد ویزا پابندیوں کی فہرست سے نکال دیا جائے گا 
اسلام آباد(آئی این پی )دفتر خارجہکے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے   کہا ہے  پاکستان کسی بھی ابراہیمی معاہدے کا حصہ نہیں بنے گا،بورڈ آف پیس کو ابراہام معاہدے سے جوڑنا غلط فہمی ہے ، ایران  کے معاملے پر پاکستان ہمیشہ پر امن طریقے سے مسائل کے حل کی بات کرتا ہے،  طاقت کے استعمال اور اقتصادی پابندیوں کے حق میں نہیں، ہم امید کرتے ہیں کہ امن بحال ہو گا، پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات اچھے ہیں ،   امید ہے  پاکستان کو جلد ویزا پابندیوں کی فہرست سے نکال دیا جائے گا ،  پاکستان یورپی یونین کے ساتھ رابطے میں رہتا ہے ،بھارت ، یواے ای   کے درمیان معاہدے پر تبصرہ نہیں کریں گے۔   ہفتہ وار بریفنگ میں ترجمان  دفتر خارجہ   نے کہا کہ پاکستان انٹرنیشنل سٹبلائزیشن فورس میں شامل نہیں ہوگا، بورڈ آف پیس اور سٹبلائیزشن فورس کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے، پاکستان بورڈ آف پیس کا حصہ مشترکہ حکومتی رولز کے مطابق بنا ہے۔  بورڈ آف پیس میں نیک نیتی کے تحت شمولیت اختیار کی، بورڈ آف پیس میں شمولیت کا مقصد غزہ میں جنگ بندی کو مستحکم بنانا ہے، بورڈ آف پیس کا دوسرا مقصد غزہ کی تعمیر نو میں معاونت ہے، تیسرا مقصد فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت پر مبنی دیرپا امن کا قیام ہے۔ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان اکیلا نہیں بلکہ7 دیگر مسلم ممالک بھی بورڈ آف پیس میں شامل ہیں، سعودی عرب، مصر، اردن،یو اے ای، انڈونیشیا اور قطر بھی بورڈ آف پیس کا حصہ ہیں، بورڈ آف پیس کا آغاز گزشتہ برس ستمبر میں اجتماعی کوشش کے تحت ہوا، بورڈ آف پیس غزہ اورمسئلہ فلسطین کے لیے امید کی کرن ہے۔ پاکستان 1967 کی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست کا حامی ہے،  آزاد فلسطینی ریاست کا دارالحکومت القدس الشریف ہونا چاہیے۔