بورڈ آف پیس میں سوچ سمجھ کر شامل ہوئے پاک فوج حماس یا کسی مسلمان کیخلاف استعمال نہیں ہوگی عسکری ذرائع

پاکستان نے 8 بڑے اسلامی ممالک کے ساتھ مشاورت کے بعد بور میں شمولیت کا فیصلہ کیا،  حماس کو غیر مسلح کرنا ہمارے لئے ریڈ لائن ہے
پاکستانی فوج فلسطین کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، پاکستان صرف اپنے مفاد میں فیصلہ کرتا ہے،کیا ہم نے کشمیر پر سودے بازی کبھی نہیں کی
بورڈ آف پیس میں شمولیت کے حوالے سے حکومت کو پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا تھا:سکیورٹی  حکام کی اسلام آباد میں   سینئر صحافیوں کو بریفنگ
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سیکیورٹی ذرائع نے امریکی صدر کے بورڈ آف پیس میں شمولیت پر وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے  پاکستان نے 8 بڑے ممالک کے ساتھ مل کر بورڈ میں شرکت کا فیصلہ کیا، پاک فوج حماس کو غیر مسلح کرنے یا فلسطین سمیت کسی مسلمان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔ عسکری ذرائع نے اسلام آباد میں سینئر صحافیوں کو بتایا  پاکستان نے غزہ امن بورڈ میں شرکت کا فیصلہ 8 بڑے اسلامی ممالک سے مشاورت کے بعد بہت سوچ سمجھ کر کیا۔عسکری ذرائع نے کہا کہ اسرائیل کو فلسطینیوں کی نسل کشی سے صرف امریککہ ہی روک سکتا ہے۔ عسکری ذرائع نے کہا  حماس کو غیر مسلح کرنا ہمارے لئے ریڈ لائن ہے، پاکستانی فوج فلسطین کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، پاکستان صرف اپنے مفاد میں فیصلہ کرتا ہے،کیا ہم نے کشمیر پر سودے بازی کبھی نہیں کی۔عسکری ذرائع نے کہا  ٹرمپ نے بہت سے ممالک کے متعلق بہت کچھ کہا۔  عسکری ذرائع نے کہا  بورڈ آف پیس میں شمولیت کے حوالے سے حکومت کو پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا تھا۔انہوں نے کہا کہ حماس اور حزب اللہ کے خلاف آئی ایس ایف میں پاکستان کی فوج نہیں جائے گی‘عسکری ذرائع نے کہا  فلسطین اور مقبوضہ کشمیر کے مسائل ایک جیسے چل رہے ہیں، فلسطین مسلسل سکڑتا چلاجارہا ہے مگر ہم نے انڈیا کو ایک انچ بھی آگے نہیں آنے دیا۔عسکری ذرائع نے کہا  جہاں چین ہو وہاں ہمیں فکر نہیں ہوتی اور جہاں ہم ہوں وہاں چین کو فکر نہیں ہوتی، ہماری دوستی ہے، برطانیہ، یورپ سب امریکا کے اتحادی ہیں، انہوں نے اپنے فیصلے خودکرنے ہیں۔