جنگ یوکرین سے کس کس نے فائدہ کس نے نقصان اٹھایا؟

عبدالرزاق برق 

  دنیا بھرکے نایاب اورمعدنیات کا بڑازخیرہ رکھنے والاملک یوکرین موجودہ وقت کا ایک ایسا خطہ ہیے جو 21ویں صدی میں نایاب معدنیات کے لحاظ سے ایک معاشی بنیادکی حثیت رکھتا ہے اور دس کھرب ڈالر کے مالی زخائررکھنے والا خطے پرطاقتور قوتوں کی جانب سے ایک ایسی جنگ گزشتہ تین سالوں سے شروع کی گئی جس سے پہلی باراس خطے میں  یہ آثارسامنے نظرآنے لگا ہیے کہ اس جنگ سے کس طاقتورملک کوسیاسی اورمالی فائدہ پہنچے گے اورکس ملک کونقصان پہنچے گے بظاہر تو یوکرین کے نایاب زخائرپر قبضہ کرنے کے بہانے خود یوکرین کے 60ہزارافراد جنگ میں ہلاک ہوئے  اوراس ملک کی شہرشہرکھنڈرات میں تبدیل ہوگئے اورجس ملک نے یوکرین پرفوجی مداخلت کی تھی اس کے ایک لاکھ سے زائدافرادہلاک ہوئے مگر یوکرین کی جنگ سے سب سے پہلافائدہ دنیا کی واحدسپر پاورملک امریکہ کو پہنچے گے جس نے یوکرین کی جنگ میں روس کوکمزورکرنے کے لئے سب سے زیادہ 170بلین ڈالر یوکرین کوفراہم کیئے تھے  یہ فائدہ امریکہ کو ایسے میں پہنچے گے کہ پہلی بار جنگ یوکرین میں زیادہ ڈالردینے کے پاداش میں واشنگٹن اورکیف کے درمیان ایک وسیع اقتصادی معاہدے پراتفاق ہوا ہے جس میں یوکرین کے زیرزمین زخائرتک امریکہ کی رسائی شامل ہوگی اوران زخائرکی مددسے امریکہ کووہ پیسے واپس مل جائے گا جوکہ امریکہ نے گزشتہ تین سالوں میں یوکرین کی جنگ میں خرچ کیئے ہیں خودامریکہ نے یہ معاہدہ یوکرین کے لئے فائدہ مندقراردیا ہیے  تاھم یوکرین کوسیکورٹی ضمانت دینے سے انکارکرتے ہوئے کہا کہ یورپ کویہ کام کرناہوگا کیونکہ امریکہ اوریورپ کے درمیان تعلقات ناخن اورگوشت کے برابرکے حیثیت رکھتے ہوئے دوسری جنگ عظیم کے بعدامریکہ نے ایک مارشل پلان کے تحت یورپ کو 14بلین ڈالرفراہم کیئے تھے  جبکہ خود کیف کویہ امیدہیے کہ معاہدہ ہونے کے بعد یوکرین کو امریکی امدادجاری رہیے گی سوال یہ پیداہوتا ہیے کہ امریکہ کویوکرین میں موجودزخائرکی کیوں ضرورت درپیش ہوئی ؟ امریکہ ان زخائرکی ضرورت اس لئے پیش ہوئی کہ دنیا بھر میں پائی جانے والی نایاب معدنیات کا بڑازخیرہ یوکرین میں موجودہیے جس میں گریفائٹ کے 19ملین ٹن کے ذخائربھی موجودہیں یوکرین کی جیولوجیکل سروے ایجنسی کے مطابق ان کا ملک یہ معدنیات سپلائی کرنے کے پانچ بڑے ممالک میں سے ایک ہیے واضح رہیے کہ گریفائٹ کا استعمال الیکٹرک گاڑیوں کی بیٹریاں بنانے کے لئے ہوتا ہیے یوکرین کے پاس دنیابھرمیں استعمال ہونے والی اہم معدنیات ٹائٹنیم کاسات فیصد حصہ بھی یوکرین سے آرہاتھا ٹائٹینم ایک۔ایسی دھات ہیے جس کا استعمال ہوائی جہازبنانے سے لے کرپاورسٹیشنزکی تعمیرتک میں ہوتا ہیے اس کے علاوہ یوکرین میں ایسی 17 نایاب معدنیات اوربھی موجودہیں جنکا استعمال ہتھیارپن چکیاں اورمتعددبرقی مصنوعات بنانے میں ہوتاہیے تاھم یوکرین کے کچھ معدنی زخائرپرروس نے بھی قبضہ کیا ہوا ہے ایک اطلاع کے معدنیات کے 350ارب ڈالرکے زخائران مقامات پرہیں جہاں روس کاقبضہ ہیے سنہ 2022میں کینڈاکی ایک کمپنی سیکوڈیونے حساب لگایاتھا کہ روس یوکرین کی 63فیصدکوئلہ کانوں آدھے سے زیادہ مینگنیزسیزیم اورٹینٹلم کے معدنی ذخائر پرقابض ہیے لیکن امریکہ نے ہرجگہ اپنامفادکوعزیزرکھا ہیے ایک ملک کو جنگ میں جھونک کراب معدنیات پرہاتھ صاف کرناچاہتا ہیے زیلنسکی کی کوئی اوکات نہیں کہ وہ امریکا کواپنا معدنیات نہ دے سکے کیونکہ طاقتور ممالک نے زیلنسکی کے ملک کو جنگ اورقرضوں میں اس طرح جکڑاکیاہواہیے جس طرح پاکستان کواسٹبلیمیشمنٹ کے چنگل میں جکڑاہواہیے امریکہ کایہ وطیرہ رہاہیے کہ کسی بھی ملک میں معدنیات نکالنے کے لئے اس ملک میں جنگ شروع کیاجائے اوراس ملک کواس نہج پرلاکھڑاکیاجائے کہ وہ اپناسب کچھ بیچنے پرآمدہ ہوجائے ڈونلڈٹرمپ نے ایک بارواضح بتادیا کہ جنگ کی سپورٹ معدنیات ہاتھیانے کے لئے کررہاتھا اسی طرح دنیا بھرکے وسائل پرقبضہ کے لئے بھی کئی دنیاوی طاقتوں کے وسائل کواستعمال کیاجاتاہیے اورکئی جنگیں دراصل وسائل پرقبضے کے لئے ہی ہیں کیونکہ امریکہ فری میں کسی کی مددنہیں کرتا اسی طرح یوکرین امریکہ کے ہاتھوں روس کے خلاف استعمال ہواہیے اوروہ امریکہ کی ایماں پراپنے قدسے بڑے دشمن سے ٹکراکر اپنی تباہی مول لی اب وہی امریکہ اس سے اپنی رقم کابھی مطالبہ کررہاہیے  امریکہ نے یوکرین کونیٹومیں شامل کرنے کے بہانے روس کے ساتھ جنگ پرلگادی تاکہ روس کافوجی طاقت کمزورہوجائے اوریورپ کوبارباریہ کہاگیا کہ اگریوکرین نے شکست کھائی توپھرنمبریورپ کاہیے اس وجہ سے یورپ نے بہت سے فوجی سامان امریکہ سے خریدا اوریوکرین کوبارباریہ یقین دیا کہ امریکہ اوریورپ آپ کے ساتھ کھڑاہیے اور500بلین ڈالر کاقرضہ بھی دیاگیا یوکرین اورامریکہ کے درمیان ایک وسیع اقتصادی معاہدے پراتفاق کرنے سے پہلے یوکرین میں روس کی فوجی مداخلت کے تین برس مکمل ہونے کے موقع پراقوام متحدہ کے بین الاقوامی فورم پریوکرین کے مسلے پرپیش امریکی قرارداد منظورکرلی گئی قراردادمیں تنازعے کے فوری خاتمے کی اپیل کی گئی چین امریکا روس اورپاکستان سمیت 10ممالک نے قراردادکی حمایت کی گئی  اوریوکرین کے معاملے پرپہلی بارروایتی حریف امریکہ اورروس ایک ہوگئے اورٹرمپ کی خارجہ پالیسی میں طاقت کے توازن میں نمایاں تبدیلی دیکھی گئی اس موقع پرامریکہ نے یوکرین پرحملہ کرنے کے اقدام پرروس کی مذمت سے گریزکرکے ایک ہی دن اقوام متحدہ میں دوبارروس کاساتھ دیا یوکرین جنگ کی وجہ سے دوسرا فائدہ روس کو یہ ہوا کیونکہ روس کی۔یوکرین میں روسی مداخلت سے یوکرین نیٹو کاممبر نہیں بن سکا حالانکہ یوکرین کے اردگر دوممالک سویڈن اورفن لینڈ نیٹوکے ممبر بن گئے جبکہ 1994سے نیٹواتحاد نے وعدہ کیاتھا کہ نیٹواتحادمیں توسیع نہیں کریں گے  روس کی یوکرین کے ساتھ جنگ چیھڑنے سے پہلی بار روس کو یہ فائدہ ہوا کہ شمالی کوریا چین ایران بھارت اور سعودی عرب سے سب سے زیادہ تعلقات قائم کرلئے گئے اوربھارت پراپنا تیل فروخت کرنے لگا اس کے علاوہ روس برکس تنظیم کا ایک اہم ممبربن گیااورامریکی ڈالر کے خلاف برکس ممالک کاایک سکہ بنانے کی کوشش کی۔گئی لیکن امریکہ نے برکس تنظیم کے خلاف روس کے ساتھ پالیسی میں تبدیلی لائی گئی اورپہلی بارسعودی عرب کی ثالثی میں تعلقات کو نئے سرے سے بہتر بنانے کے لئے یوکرین کے تین سالہ جنگ کی خاتمے کے مسلے پرروسی اورامریکی اعلی اہل کاروں کاپہلااجلاس منعقدکیاگیا  روس نے جب یوکرین پرفوجی مداخلت کی گئی توامریکہ نے روس پردوسرے ممالک پرتیل فروخت کی پابندی لگائی گئی لیکن جب امریکی حکام نے روسی حکام کے ساتھ یوکرین کے تنازعے پرمذاکرات شروع ہوئے توروس پرامریکہ کی پابندیاں بھی ختم ہوگئی اس سے ثابت ہوا کہ یوکرین کے ساتھ روس کا جنگ کرنے سے روس کی جیت ہوئی حالانکہ یوکرین کی جنگ میں روس کی ایک لاکھ سے زیادہ اہلکارہلاک ہوئے مگر روس کا جنگ کے دوران یورپ کا کوئی بھی فوجی یوکرین کے اندرتعنیات نہیں 
کیاگیا اورروس کا ایک کامیابی یہ بھی ہیے کہ انہوں نے یوکرین کے چاراہم شہروں یاصوبوں پرقبضہ کیا ہیے لیکن یورپ نے ان چارشہروں کو روس سے واپس لینے کے لئے یوکرین کی کوئی مددنہیں کی۔گئی  تیسرا اہم بات یہ ہے کہ یوکرین اورروس کے درمیان تین سالہ جنگ میں یورپ اورامریکہ کا کوئی بھی بندہ ہلاک نہیں ہوا صرف یوکرینی اورروسی لوگ ہلاک ہوئے یوکرین اورروس کی جنگ میں سب سے زیادہ نقصان یوکرین کو پہنچا اس ملک کے اہم اوردنیا کی نایاب معدنیات امریکہ کو ملے گا یوکرین کویہ نقصان بھی ہوا اس ملک کو جنگ کی وجہ سے کئی علاقے اورشہر کھنڈرات میں تبدیل کی گئی اوراس ملک کے چارصوبے یاشہروں پرروس نے قبضہ کیا ہواہیے کسی بھی ملک کو جنگ کرنے کے لئے تین چیزوں کی ضرورت ہیے جن میں مورال مرام اورہتھیارفراہمی کے زرائع لیکن آج یہ تینوں چیزیں نہ یوکرین کو حاصل نہ روس کو البتہ یوکرین اورروس جنگ کی فائدہ کسی اورممالک کو پہنچ گیا اب روس چائنا کاراستہ روکنے میں امریکہ کامددگار ثابت ہوسکتا ہے اورامریکہ اس کے بدلے روس کے منجمدڈالراورغیرمنجمدکے علاوہ اوربہت سے معاہدے کرسکتا ہے امریکہ برکس کوبھی اچھی نظرنہیں دیکھتا اوراس حوالے بھی اسے روس کی حمایت درکارہوگی