غلام علی
انسان کو معاشرتی حیوان کہا جاتاہے کہیں تو یہ مجبور اوربے بس ہے اور کہیں اشرف المخلوقات کے درجے پر فائز بھی ہے ۔ خالقِ کائنات نے انسان کو عقل، شعور ، ارادہ،سوچ اور ذمہ داری عطا کی ہے۔ انسان علم، ادب، اخلاقیات ، انسانی ہمدردی، بھرم ، رکھ رکھائو ، دل جوئی، تہذیب اور ثقافت کا وارث ہے۔ اسی بناء پرانسان کو معاشرے میںفرائض کی سر انجام دہی کیلئے مختلف کردار اداکرنے پڑتے ہیں ۔ کردار کی ادائیگی کے لئے زبان اور اشاروں کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔انسان کی گفتگو ا ور رویہ نوٹ ہو رہا ہوتا ہے اور اسی بناء پر انسان کے ظرف، خاندان، تربیت ، علم اور شخصیت کا اندازہ ہوتا ہے۔جب انسان کسی محفل یا مجمع میں کوئی فعل سر انجام دیتا ہے تو در اصل وہ اپنے خاندان کی ترجمانی کر تا ہے۔ دیکھنے یا سننے والااُسی لمحے انسان کی خاندانی حیثیت پہچان لیتا ہے۔
جس وقت یہ کالم لکھنے کی کوشش کر رہا تھا تو کسی دانش ور دوست نے لکھنے سے منع کیا۔ میں نے منع کرنے کی وجہ پوچھی تو وہ کہنے لگے کہ ’’آپ کے قلم کا یہ معیار نہیں ہے‘‘ ۔ بہت دیر میں اس کشمکش میں رہا کہ قلم کی روانی جاری رکھوں یا اس کا رُخ موڑ دوں ۔پھر میری سوچ نے مجھے تحریرجاری رکھنے کی ترغیب دی اور میرے دماغ میں سر گوشی کی کہ سوشل میڈیا کے اِس دور میں تاریخ کا سب سے زیادہ جھوٹ بولا جا رہا ہے اور وہ چل بھی رہا ہے ۔ آپ توحقیقت ہی سپردِ قلم کر رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے اس کاوش سے کوئی متفکر انسان اپنی عادتیںبدل ڈالے۔
انسان چھوٹی چھوٹی غلطیاں کرتا ہے جن کی بدولت بہت سی نعمتوں سے محروم ہو جا تاہے یالوگوں کی نظروں میں گر جاتا ہے۔ جیسے محفل میں بیٹھے ہوئے کان صاف کرنا۔ اس حرکت سے بہت سے لوگ نفرت کرتے ہیں اور وہ میل جول رکھنے سے گریز کرنے لگ جاتے ہیں ۔ محفل میں ہی ناک صاف کرنے لگ جانا بد تہذیبی کا عروج ہے۔ یہ فعل سامنے والے انسان کو قطعاً اچھا نہیں لگ رہا ہوتا۔ کھانا کھایا اور کھانے کے بعد لوگوں کے سامنے دانتوں کا اپریشن شروع کردیا، یہ بھی منہ بولتی بد تہذیبی ہے۔ یہ فعل بھی قابل تعریف نہیں ہے۔کچھ لوگ اپنے اندر سے احساس کمتری کم کرنے کی غرض سے اپنے زیر دست لوگوں کے ساتھ یا اپنی اولاد کے ساتھ سخت لہجہ و رویہ اپناتے ہیں جس کی وجہ سے احترام میں خلا پیدا ہو جاتا ہے۔ علم یا دولت کی برتری کے سبب دوسروں کو نظرانداز کرنے سے بھی لوگ دور ہو جاتے ہیں۔ بے دھیانی میں لوگوں کی بات کا جواب دینا یا مخاطب نہ ہونا،یہ رویہ بعض اوقات الجھنوں کو مدعوع کرتا ہے۔ غیر رسمی و فحش گفتگو کسی بھی جگہ قابل قبول نہیں ہے اور یہ باعث ِ تذلیل ہے۔ غصہ شیطانی فعل ہے جو انسانی غلطیوں کا سربراہ ہے۔ اس میں کبھی بھی خیر نہیں۔ بد تمیزی سے انسان کا قد چھوٹا لگتا ہے ، ظرف میں کمتری نظر آتی ہے۔ عجلت میں فیصلے کرناایسی بڑی غلطی ہے جس کا خمیازہ نہیں ہوتا۔ گالیاں دینا، غیر اخلاقی ، غیر شرعی اور غیر قانونی عمل ہے جو کسی بھی ذی شعور انسان کو نہ تو زیب دیتا ہے اور نہ سننے والا پسند کرتا ہے۔ صفائی نصف ایمان ہے جو لوگ صفائی پسند ہوتے ہیں وہ ایسی جگہوں پر نہیں جاتے جہاں صفائی نہیں ہوتی یا ایسے لوگوں سے بھی میل جول نہیں رکھتے جو صفائی نہیں رکھتے۔ آس پاس صفائی کا خیال نہ رکھنا، سست ، کاہل اور غافل لوگوں کی علامت ہوتی ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ کسی کو بھانپنا ہوتو اس کے ساتھ کھانا کھا لو یامل کر سفر کر لو معلوم ہو جائے گا کہ بندہ کس پانی میں ہے۔ کھانا کھاتے وقت پتہ چل جاتاہے کہ یہ بندہ خدا یا بندی خدا کس شخصیت کی مالک ہے اور خاندانی روایات کیسی ہیں ؟دوسروں کے حصے کا کھانا کھا جانایا دوسروں کے آگے سے اٹھا کے کھا جانابھوک اور حرص کی علامت ہے۔جو انسان کی ذہنی پستی ہے۔کچھ لوگ منہ میں پان ، نسواریا مصالہ رکھ لیتے ہیں اور جگہ جگہ تھوہ تھوہ کرتے پھرتے ہیں۔یہ بد تہذیبی کی منہ بولتی مثال ہے۔جگہ جگہ تھوکنا بھی انتہائی معیوب تصور ہوتا ہے۔
دوسروں کے راز افشا کرنا، اپنی بات کو لمبا کرنا، کسی دوسرے کو بولنے کو موقع نہ دینا، دوسروں کے گھروں کے آگے کوڑا پھیکنا، دوسروں کے عیبوں کا کھوج لگانا، منہ پہ ہاتھ رکھے بغیر جمائی لینا، تلاوت کرتے ہوئے بندے کو سلام کہنا، پائوں گھسیٹ گھسیٹ کر چلنا، قطار توڑنا، دوسروں کو نصیحت خود میاں فضیحت ، وعدوں کی پاسداری نہ کرنا،بات کا بتنگڑ بنانا،ایسے موضوع پر بات کرنا جس کا سرے سے علم ہی نہ ہو، کسی کا مذاق اڑانا،دوران گفتگو بلاوجہ دخل اندازی کرنا،ناحق کسی کی تذلیل کرنا،غیبت کرنا، بچوں کی شرارتیں بڑوں کی عداوتیں،دوسروں کی ذاتی خامیوں کو موضوع گفتگو بنانا وغیرہ یہ وہ چھوٹی چھوٹی غلطیاں ہیں جو دوسروں سے دور کر دیتی ہیں۔
وہ لوگ جنہوں نے دفتر یا گھر کے باہر دربان بٹھا رکھے ہوتے ہیں ان میں احساس برتری کی بیماری ہوتی ہے کہ وہ سلام کا جواب بھی نہیں دیتے۔یہ بوجھ بر زمین ہیں جو ہاتھ بھی نہیں ملاتے ، ان کا تکبرآسمان سے باتیں کرتا ہے۔وہ کسی سے مسکرا کر بات کرنا بھی قرض سمجھتے ہیں۔ سمجھ نہیں آتی نہ تو وہ زمین کو پھاڑ سکتے ہیں نہ آسمان کی بلندیوں کو چھو سکتے ہیں ۔