بنگلا دیش کی ہائی کورٹ نے 2004ء میں ایک سیاسی ریلی پر گرینیڈ حملے کے کیس میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے سابق وزیرِاعظم خالدہ ضیاء کے بیٹے طارق رحمٰن اور دیگر 48 افراد کو بری کر دیا۔
کیس کی تفصیلات:
حملہ: 2004ء میں ڈھاکہ میں شیخ حسینہ واجد کی عوامی لیگ کے حامیوں کی ایک ریلی پر گرینیڈ حملہ ہوا تھا، جس میں 24 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے تھے۔
الزام: طارق رحمٰن پر اس حملے کی منصوبہ بندی کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
2018ء کا فیصلہ: عدالت نے انہیں عمر قید کی سزا سنائی تھی، جبکہ 19 دیگر افراد کو سزائے موت دی گئی تھی۔
ہائی کورٹ کا فیصلہ: حالیہ سماعت میں عدالت نے 2018ء کے فیصلے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے تمام ملزمان کو بری کر دیا۔
طارق رحمٰن کی جلاوطنی:
طارق رحمٰن 2008ء سے خود ساختہ جلاوطنی کاٹ رہے ہیں اور لندن میں مقیم ہیں۔ وہ بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے سینئر نائب صدر بھی ہیں۔
سیاسی اور قانونی اثرات:
یہ فیصلہ بنگلا دیش کی سیاست میں اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے، خاص طور پر عام انتخابات کے قریب آنے کے باعث۔ حزبِ اختلاف کی جماعت بی این پی کے حامی اسے اپنی کامیابی قرار دے رہے ہیں، جبکہ حکمران جماعت عوامی لیگ نے اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
ماضی کے تناظر:
بنگلا دیش میں سیاسی مخالفین پر مقدمات اور سزاؤں کا سلسلہ معمول رہا ہے، اور یہ فیصلے اکثر متنازع سمجھے جاتے ہیں۔
نتائج کے ممکنہ اثرات:
اس بریت کے بعد بی این پی کا سیاسی اثر مزید بڑھ سکتا ہے، جبکہ عوامی لیگ پر دباؤ میں اضافہ ہوگا۔