بنگلہ دیش نیشنل لیگ (بی این پی) کی چیئرپرسن بیگم خالدہ ضیا کو ممکنہ طور پر آج رات نصف شب یا جمعہ کی صبح لندن منتقل کیا جا سکتا ہے۔
سابق بنگلہ دیشی وزیر اعظم کے ذاتی معالج اور بی این پی کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے رکن، پروفیسر ڈاکٹر اے زیڈ ایم زاہد حسین نے جمعرات کو ایور کیئر اسپتال کے باہر میڈیا سے گفتگو میں اس بات کی تصدیق کی۔انہوں نے بتایا کہ لندن منتقلی کے تمام انتظامات مکمل ہیں، اور قطری ایئر ایمبولینس سابق وزیر اعظم کو مزید علاج کے لیے لے جائے گی۔ روانگی کا حتمی فیصلہ ڈاکٹرز کی کلیئرنس کے بعد ہی کیا جائے گا۔اسپتال ذرائع کے مطابق، خالدہ ضیا گزشتہ 12 دن سے سی سی یو میں زیر علاج ہیں اور انہیں بیرون ملک منتقل کرنے کی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں۔ قطر حکومت نے امیر قطر کی خصوصی ایئر ایمبولینس تیار رکھی ہے، جس میں خالدہ ضیا کی ذاتی میڈیکل ٹیم سمیت 14 افراد ان کے ہمراہ ہوں گے۔قطر کے سفارتخانے کا کہنا ہے کہ طبی اجازت ملنے کے ساتھ ہی طیارہ فوری طور پر بنگلہ دیش کے لیے روانہ ہوگا۔
بی این پی کے سینیئر جوائنٹ سیکریٹری جنرل، روح الکبیر رضوی نے نیا پلٹن میں پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ خالدہ ضیا کی حالت نازک ہے اور انہیں انتہائی نگہداشت فراہم کی جا رہی ہے۔واضح رہے کہ خالدہ ضیا مختلف دائمی امراض میں مبتلا رہی ہیں، جن میں گٹھیا، ذیابیطس، گردوں اور پھیپھڑوں کے مسائل اور آنکھوں کی بیماری شامل ہیں۔انہیں اگست 2024 میں عوامی لیگ کی حکومت کے خاتمے کے بعد رہا کیا گیا تھا۔ وہ جنوری 2025 میں علاج کے لیے لندن گئیں اور 117 روز بعد 6 مئی کو وطن واپس آئیں۔23 نومبر کو دوبارہ اسپتال میں داخل کیا گیا، جہاں ڈاکٹرز ان کی صحت کو انتہائی نازک قرار دے رہے ہیں۔