پاکستان میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے۔
سسٹین ایبل سوشل ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (SSDO) کی پانچ سالہ رپورٹ کے مطابق، 2019 سے 2023 تک کے اعداد و شمار میں ملک بھر میں 5398 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں سے 62 فیصد پنجاب سے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ بچوں کے خلاف جنسی زیادتی کے واقعات میں 220 فیصد اضافہ ہوا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ پنجاب کے ضلع لاہور میں سب سے زیادہ 1176 واقعات رپورٹ ہوئے، جبکہ خیبرپختونخوا کے کولائی پالس کوہستان میں 84 واقعات سامنے آئے۔ ایس ایس ڈی او نے بچوں کے تحفظ کے لیے مختلف سفارشات پیش کی ہیں جن میں قوانین کے نفاذ کو مضبوط بنانا، عدلیہ اور پولیس کو خصوصی تربیت دینا، زینب الرٹ ایکٹ کے تحت فاسٹ ٹریک عدالتوں کی مؤثر کارکردگی اور آگاہی مہمات شامل ہیں۔
ایس ایس ڈی او کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سید کوثر عباس نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اعداد و شمار صرف اعداد و شمار نہیں ہیں بلکہ معصوم بچوں کی زندگیاں ہیں، جو ناقابل تصور صدمے سے دوچار ہوئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مضبوط قوانین، موثر نفاذ، اور عوامی آگاہی کی مہمات کی ضرورت ہے تاکہ بچوں کا تحفظ قومی ترجیح بنے۔انہوں نے حکومت، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سول سوسائٹی سے اپیل کی کہ وہ بچوں کے خلاف جنسی زیادتی کے بنیادی اسباب کا خاتمہ کریں تاکہ پاکستان میں ایک محفوظ اور دوستانہ ماحول فراہم کیا جا سکے۔