پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی سینیٹر پلوشہ خان نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں جو انتشار پھیلایا جا رہا ہے اس کا مقصد پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو بند کرانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کچھ قوتیں چاہتی ہیں کہ پاکستان ایران اور عراق بن جائے اور ملک کی معیشت کو نقصان پہنچایا جائے، اس کے لیے سول نافرمانی کی کال دی جا رہی ہے۔ پلوشہ خان کا کہنا تھا کہ اس وقت جو ایک طرفہ فیصلے ہو رہے ہیں، وہ پاکستان کے لیے نقصان دہ ہیں اور انہوں نے ن لیگ کو مشاورت کے ساتھ فیصلے کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔پلوشہ خان نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی کبھی بھی اداروں کے خلاف بات نہیں کرتی اور ملکی مسائل کے باوجود اداروں کا دفاع کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں ایسے واقعات ہو رہے ہیں جس سے لگتا ہے کہ پاکستان دشمن کے نشانے پر ہے، اور دشمن ملک کے اندر سے اور باہر سے پاکستان کو نقصان پہنچا رہا ہے۔
انہوں نے امریکی اعتراضات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جب سے پاکستان کا ایٹمی پروگرام آگے بڑھا ہے، امریکہ نے اس پر اعتراضات اٹھانے شروع کر دیے ہیں۔پیپلز پارٹی کے رہنما بیرسٹر عامر حسن نے بھی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی انتشار پھیلا رہی ہے اور ن لیگ کو مشاورت کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے، کیونکہ حکومت پیپلز پارٹی کے ووٹوں پر قائم ہے۔سینیٹر پلوشہ خان نے آخر میں کہا کہ پی پی کسی بھی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دے گی اور وہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی حفاظت کریں گے۔