تہران: ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکی پابندیوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد ایران کو صرف معاشی دباؤ میں لانا نہیں بلکہ ایرانی معاشرے میں اندرونی انتشار اور تباہی پیدا کرنا ہے۔
تہران میں وزارتِ محنت کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مسعود پزشکیان نے کہا کہ امریکا پابندیوں اور مختلف مسائل کے ذریعے ایرانی معاشرے کو اندر سے کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ایرانی صدر نے الزام عائد کیا کہ بیرون ملک مقیم بعض ایرانی عناصر بھی تہران کے دشمنوں کے ساتھ مل کر ملک میں بے چینی اور انتشار پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ بیرون ملک موجود کچھ ایرانی عناصر عوام کو مشتعل کرنے اور ملک میں بدامنی پیدا کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔مسعود پزشکیان کے مطابق ایران پر بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ کے اثرات معیشت اور عوامی زندگی پر پڑ رہے ہیں، تاہم ان کے بقول امریکی پابندیوں کا بنیادی مقصد ایرانی معاشرے کو اندرونی طور پر متاثر کرنا ہے۔
واضح رہے کہ امریکی محکمہ خزانہ نے 24 اگست کو ’’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ‘‘ کا اعلان کیا تھا، جس کا مقصد ایران کو بیرونی تجارت سے حاصل ہونے والی آمدنی سے محروم کرنا اور اس کے معاشی وسائل پر دباؤ بڑھانا ہے۔ امریکی پابندیوں اور دیگر اقدامات کے باعث ایران کی تیل برآمدات اور غیر ملکی کرنسی تک رسائی بھی متاثر ہوئی ہے۔