چیف الیکشن کمشنر ،ممبرسندھ ، بلوچستان کی مدت 26جنوری کو مکمل

26ویں ترمیم کے تحت تینوں نئی تعیناتیوں تک عہدوں پر کام کرتے ر ہیں گے 
مدت پوری ہونے پر 45دن میں چیف الیکشن کمشنر اور ممبران کا تقرر لازمی ہے 
 اسلام آباد(خصوصی رپورٹ) سال 2025 وفاق کے اہم آئینی ادارے الیکشن کمیشن کیلیے تبدیلی کاسال ہوگا۔ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ ، سندھ سے ممبر الیکشن کمیشن نثار احمددرانی اوربلوچستان سے ممبر شاہ محمدجتوئی کی پانچ سال مدت 26جنوری2025 کو مکمل ہو جائے گی۔پارلیمنٹ سے منظور کردہ 26ویں آئینی ترمیم کے تحت چیف الیکشن کمشنر اور ممبران نئی تقرریوں تک اپنے عہدوں پر کام کرتے ر ہیں گے۔ وفاقی حکومت کی منظور کردہ 26ویں آئینی ترمیم کے آرٹیکل 215کے تحت چیف الیکشن کمشنر اور ممبران الیکشن کمیشن کی مدت پانچ سال مقرر کی گئی ہے اور مدت پوری ہونے کے بعد 45دن میں چیف الیکشن کمشنر اور ممبران کی تقرری کرنالازمی ہے۔ آئین کے آرٹیکل 213کے تحت چیف الیکشن کمشنر اور ممبران الیکشن کمشنر کی تقرری کیلیے وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف تین نام اتفاق رائے سے صدر پاکستان کوبھجوائیں گے ۔ چیف الیکشن کمشنر اور ممبران کے ناموں پر اتفاق نہ ہونے کی صورت میں وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف اپنیاپنے نام پارلیمانی کمیٹی کوبھجوائیں گے۔ سپیکر قومی اسمبلی 12 رکنی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دیں گے جس میں ایک تہائی سینیٹ کے ممبران ہوں گے۔پارلیمانی کمیٹی میں نصف حکومتی او رنصف حزب اختلاف کے ممبران شامل ہوں گے جو بھجوائے گئے ناموں میں سے ایک نام پر اتفاق کے بعد منظوری کیلیے صدر پاکستان کوبھجوائیں گے ۔ آرٹیکل 217 کے تحت چیف الیکشن کمشنر کی مدت ختم ہونے یا غیر حاضر ہونے یا عہدے خالی ہونے کی صورت میں سینئر ممبر چیف الیکشن کمشنر کی ذمہ داریاں نبھائیں گے۔ موجودہ سینئر ممبر نثار احمد درانی اور شاہ محمد جتوئی کی پانچ سال مدت 26جنوری 2025 کو ختم ہورہی ہے۔ آئین کے آرٹیکل 215میں ترمیم کے بعد چیف الیکشن کمشنر اور ممبران نئیچیف الیکشن کمشنر اور ممبران کی تقرری تک اپنے عہدوں پرکام کرتے رہیں گے۔