حکومت سے ہمارے معاملات سنگین،دھونس ،دھمکیوں سے کام نہیں چلے گا: پیپلز پارٹی کا ن لیگ کو پیغام

پیپلز پارٹی کی پھر تنقیداتحادی حکومت میں دراڑیں؟
بلاول حکومتی روئیے پر پریشان،لوگ تکلیف میں ہونگے تو آواز اٹھائینگے،عوام کوسہولتیں نہیں مل رہیں:شازیہ مری،سندھ کے پانی، گیس اور این ایف سی کے حصے میں کٹوتی نہیں کرنے دینگے:نثارکھوڑو،گیس قیمتوں میں اضافہ بھی مسترد کردیا 
کراچی ( مانیٹرنگ ڈیسک )رکن قومی اسمبلی شازیہ عطا مری نے شہید بینظیر بھٹو کے یوم شہادت پر تاریخی جلسہ عام میں چیئرمین بلاول بھٹو کی جانب سے ملک و عوام کو درپیش مشکلات کے حوالے سے اٹھائے گئے معاملات کو عوام کے حقیقی نمائندے کی تشویش قرار دیا ہے۔ پی پی پی پارلیمینٹرینز کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات و رکن قومی اسمبلی شازیہ عطا مری نے میڈیا سیل بلاول ہاوَس کے انچارج سریندر ولاسائی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بلاول بھٹو آئیں بائیں شائیں کی سیاست نہیں کرتے، کھری بات کرنے والے لیڈر ہیں، عوام تکلیف میں ہونگے تو بلاول آواز تو اٹھائیں گے۔ شازیہ مری کا مزید کہنا تھا کہ وفاقی حکومت سے پیپلز پارٹی کے معاملات سنگین ہیں، حکومتی دھونس دھمکیوں سے کام نہیں چلے گا۔ میڈیا سیل بلاول ہاوَس سے جاری بیان کے مطابق شازیہ عطا مری نے کہا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے 17 ویں یوم شہادت کے موقع پر ملک کے کونے کونے سے بھرپور عوامی شرکت نے ایک نئی تاریخ رقم کردی۔ شازیہ مری کا کہنا تھا بلاول ملک کو درپیش مسائل اور ان کے حل سے متعلق حکومتی روئیے پر پریشان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلاول نے اپنی تقریر میں درست کہا تھا پاکستان کے عوام سیاسی و معاشی استحکام، مہنگائی و غربت سے چھٹکارا اور خوشحالی چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے بیان کردہ اعداد و شمار تو زبردست ہیں، لیکن اس کے نتیجے میں عوام کو سہولیات دستیاب ہوتی نظر نہیں آرہیں۔ شازیہ مری نے اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لئے بغیر یکطرفہ فیصلے کرنے کے وفاقی حکومت کے رجحان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب اس طرح کے اقدام کئے جاتے ہیں تو اس کے بہت خطرناک نتائج نکلتے ہیں۔ انہوں نے دریائے سندھ سے 6 نئے کینالز نکالنے کے یکطرفہ فیصلے کو ارسا ایکٹ اور 1991 کے پانی معاہدے کی صریحاً خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے شہید ذوالفقار بھٹو اور شہید بینظیر بھٹو کی جانب سے ملک کو جوہری ٹیکنالوجی اور میزائل ٹیکنالوجی فراہم کرنے کو سراہتے ہوئے کہا کہ اگر تمام مشکل حالات کے باوجود پاکستان ایک مضبوط ملک بن کر کھڑا ہے تو اس کا سبب ان قائدین کی جانب سے اٹھائے گئے مذکورہ بالا اقدام بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلاول کی یہ بات درست ہے اگر پاکستان کے جوہری اثاثوں اور میزائل ٹیکنالوجی کو خطرہ ہوگا تو پوری قوم کو مل کر ان کے دفاع کے لیے یکجا ہونا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر واقعی عمران خان سمجھتے ہیں ان کی حمایت میں بات کرنے والے لوگ پاکستان کے دفاعی اثاثوں پر پابندیاں لگاکر غلط کر رہے ہیں، تو انہیں اس عمل کی کْھل کر مذمت کرنی چاہیے،لیکن انہوں نے تاحال اس طرح کی مذمت نہیں کی، لیکن ہم پاکستان کے مفادات پر کسی کو سودے بازی کرنے نہیں دیں گے۔ انہوں نے پارا چنار کی صورتحال پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے رویے پر بھی تنقید کی اور کہا کہ وفاق اور خیبرپختونخوا کی حکومتوں نے پارا چنار کے عوام کو بے یارومددگار چھوڑ دیا ہے۔دوسری جانب پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار احمد کھوڑو نے جاری بیان میں وفاقی حکومت کو آئین کی خلاف ورزیاں کرنے سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی وفاقی حکومت کو سندھ کے پانی، گیس اور این ایف سی کے حصے میں کسی صورت کٹوتی نہیں کرنے دے گی ،اس لئے آئین کی خلاف ورزیوں سے باز رہا جائے۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت سندھ میں گیس کی لوڈشیدنگ کرنے کے ساتھ 1991 کے پانی معاہدے کے تحت سندھ کو اپنے حصے کا پورا پانی فراہم نہ کرنے سمیت این ایف سی پر نظرثانی کی باتیں کرکے آئین کی خلاف ورزیاں کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اوگرا کی جانب سے گیس کی قیمتوں میں 25 فیصد اضافے کے فیصلے کو بھی مسترد کرتے ہیں۔ نثار کھوڑو نے متنازع کینال منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کو نئے کینالز کا منصوبہ قبول نہیں ،وفاقی حکومت متنازع کینال منصوبے سے فوری دستبرداری کا اعلان کرے، اضافی پانی موجود ہی نہیں تو نئے کینالز میں پانی کہاں سے لایا جائے گا۔