اسحاق ڈار پیپلزپارٹی کے شکوے، تڑیاں پرویز اشرف
پیپلز پارٹی اورحکومتی کمیٹیوں میں مذاکرات،پی پی ارکان کے ترقیاتی فنڈز جاری نہ کرنے ،بغیر مشاور ت تعیناتیوں پر ناراضگی کا اظہار،حکومتی وفد نے تحفظات دور کرنے کی ایک بار پھر یقین دہانی کرائی،پیپلز پارٹی اور ن لیگ میں پنجاب میں پاور شیئرنگ پر آج مذاکرات ، بریک تھرو کا امکان
اسلام آباد(خصوصی رپورٹ )پاکستان پیپلز پارٹی اور حکومتی کمیٹی کے درمیان پہلی مذاکراتی نشست گھنٹے سے زائد جاری رہی جس میں پی پی نے شکوے شکایات کیے گئے پی پی نے مذاکراتی نشست کے دوران حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا، مذاکراتی اجلاس میں پی پی نے کہا ’’ہمارے ساتھ سنگین مذاق کیا جا رہا ہے‘‘، ملاقات کے دوران اسحاق ڈار اور راجہ پرویز اشرف نوٹس لیتے رہے، فریقین نے میٹنگ منٹس لینے پر اتفاق کیا تھا۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ سندھ اور بلوچستان نے ترقیاتی فنڈز کی عدم ریلیز پر تحفظات کا اظہار کیا، وفد نے کہا وفاق سندھ اور بلوچستان کے طے شدہ ترقیاتی فنڈز ریلیز نہیں کر رہا۔ بتا یا گیا ہے کہ حکومت کے ساتھ مذاکراتی اجلاس میں پی پی رہنما نے حکومتی وفد سیکہا کہ ہمارے ساتھ کمیٹی کمیٹی کھیلا جا رہا ہے، حکومت واضح کرے کیا ثابت کرنا چاہتی ہے؟ ہمارے ساتھ سنگین مذاق کیا جا رہا ہے، لیکن پیپلز پا رٹی مذاق کے موڈ میں بالکل نہیں ،پی پی رہنما نے حکومتی وفد سے پوچھا کیا کہ کیا حکومت پیپلز پارٹی کے بغیر چل سکتی ہے، وفد نے جواب دیاکہ وفاق پنجاب میں پی پی کے بغیر چلنا نا ممکن ہے، اس پر پی پی رہنما نے کہا کہ اگر حکومت چل نہیں سکتی تو پھر تنگ نہ کرے، پی پی کھیلنے لگی تو حکومت کے لیے بہت مشکل ہو جائے گی۔پی پی وفد نے عالمی اداروں میں پوسٹنگ میں نظر انداز کرنے پر بھی تحفظات کا اظہار کیا، ، وفاقی حکومت عالمی پوسٹنگز پر اعتماد میں نہیں لے رہی، پیپلز پارٹی کو عالمی پوسٹنگ میں ایڈجسٹ نہیں کیا جا رہا۔وفد نے کہا پنجاب میں بھی پی پی کو نظر انداز کرنے پر شدید تحفظات برقرار ہیں، پیپلز پارٹی نے پنجاب کے پاور شیئرنگ فارمولے پر مکمل عمل در آمد کا مطالبہ کیا، اور کہا وفاقی حکومت تحریری معاہدے پر عمل در آمد نہیں کر رہی، مراد علی شاہ نے دریائے سندھ پر لنک کینال کی تعمیر پر بھی تحفظات رکھے، گورنر پنجاب نے صوبے میں درپیش انتظامی مسائل پر تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ پنجاب حکومت اور گورنر کے درمیان آئیڈیل ریلیشن شپ نہیں ۔اجلاس میں گورنر پنجاب نے صوبے میں تعیناتیوں پر اعتماد میں نہ لینے کا شکوہ بھی کیا، امکان ہے کہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی کی کو آرڈی نیشن کمیٹیوں کا اجلاس آج دوپہر 2 بجے گورنر ہا ئوس لاہور میں ہوگا جس میں پیپلز پارٹی اور ن لیگ میں پا ئور شیئرنگ پر بات ہوگی،پیپلز پارٹی اور ن لیگ میں پنجاب میں پاور شیئرنگ پر بریک تھرو کا امکان ہے ۔اجلاس میں پیپلز پارٹی کی نمائندگی گورنر پنجاب سلیم حیدر، راجہ پرویز اشرف، مخدوم احمد محمود، ندیم افضل چن ، حسن مرتضیٰ، صوبائی پارلیمانی لیڈر علی حیدر گیلانی کرینگے۔ن لیگ کی طرف سے اجلاس میں اسحاق ڈار،اعظم نذیر تارڑ، رانا ثنا اللہ، سپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان، مریم اورنگزیب شرکت کریں گی۔پنجاب میں پیپلز پارٹی کو لوکل سطح پر درپیش مسائل،ن لیگ سے پنجاب میں تحفظات پر بھی بات کی جائے گی۔گورنر کے پی نے وزیر اعظم کے وعدے پورے نہ ہونے کا شکوہ کیا۔پی پی وفد نے کہا کہ جب معاہدہ ہو چکا ہے تو اب مذاکرات سمجھ سے بالاتر ہیں ، اجلاس میں حکومتی وفد نے تحفظات دور کرنے کی ایک بار پھر یقین دہانی کرائی۔