معاشرہ شدت پسندی کے ہاتھوں یرغمال

محمد شاہ دوتانی

پاکستانی معاشرے میں پرتشدد انتہاپسندی بڑی تیزی سے فروغ پا رہی ہے اس پرتشدد انتہاپسندی کے پس پردہ مخصوص مائنڈ سیٹ کا حامل طبقہ طاقتور طبقہ ہے جو عوامی رائے، سوچ، فکر اور کلچر کو بزورقوت دبانے کی شعوری کوشش کررہا ہے تاکہ اس اقتدار پر کنٹرول کرکے اس ملک کے وسائل پر قبضہ کرسکے۔اس مخصوص مائنڈ سیٹ کے حامل طبقے نے اپنے اثرورسوخ اور مقتدر ہونے کے ناتے پاکستان کی معاشرت، سیاست اور کلچر کو مسخ کرنے کی پوری کوشش کی ہے۔ اپنے اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے پاکستان میں نصاب تعلیم سے لے کر معاشرت اور سیاست تک کو مخصوص نظریات کا تڑکا لگا کر اسے آئینی اور قانونی تحفظ دینے کی شعوری کوشش کی گئی ہے اور یہ گروہ اب بھی اس کوشش میں مصروف ہے۔ معاشرے میں روشن خیال، معتدل اور رواداری کی سوچ اور سیاست کو کچلنے کے لیے رجعت پسند تنظیموں، سیاسی پارٹیوں، مذہبی گروہ اور شخصیات کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ اس پالیسی کے نتیجے میں آج پورا ملک انتہاپسندی اور اس سے جنم لینے والے تشدد کی لپیٹ میں ہے۔ پاکستان مخالفت خارجی قوتوں نے اس صورتحال کا پورا فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے اور وہ اب بھی کررہاہے۔ پرتشدد انتہاپسندی پاکستان کے امن و استحکام کے فروغ، انسانی حقوق کے تحفظ، انسانی امداد کی فراہمی اور پائیدار ترقی کے فروغ کی مشترکہ کوششوں کے لیے بھی خطرہ ہے۔ ہمیں پہلے سے زیادہ چوکس رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ متشدد انتہا پسند گروہ اپنا زہر پھیلانے کے لیے انٹرنیٹ پر سازگار جگہیں ڈھونڈچکے اور مسلسل اپنا کام کر رہے ہیں۔
یورپ میں نیو نازی اور سفید فام برتری کی حامی تحریکیں مضبوط ہورہی ہیں، بھارت میں ہندوتوا سوچ بھی اسی متشدد انتہاپسندی کی شکل ہے جبکہ ایران، ترکی اور عرب ممالک میں بھی علاقائی و قبائلی عصبیتں پروان چڑ رہی ہیں۔ پاکستان کی سیاست میں بھی اس سے ملتی جلتی سوچ نے تشدد پسندی کارخ اختیار کیا ہے۔ اس پرتشدد انتہاپسندی نے مذہب و مسلک کا لبادہ بھی اوڑھ رکھا جب کہ قومی پرستی کا اثر بھی موجود ہے۔ پرتشدد انتہاپسندی دراصل دہشت گردی کی ہی ایک شکل ہے۔پاکستان میں بھی ایسے عناصر متحرک ہیں جو عوام کے اجتماعی مفادات اور ریاست کے مفادات کے خلاف کام کررہے ہیں۔دراصل یہ گروہ تشدد اورکالے دھن کی طاقت کے ذریعے ریاست کو ڈکٹیٹ کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ پاکستانی تاریخ کو دیکھا جائے تو پاکستان انتہا پسندی کو مخصوص مائنڈ سیٹ کی حامل طاقتور اشرافیہ کی مدد، حمایت اور سہولت کاری حاصل رہی ہے اور اب بھی ہے۔ پاکستان کی شمال مغربی سرحدوں کو مسلسل نرم رکھنے کی پالیسی نے اس سوچ کو ماوراء￿  آئین و قانون ہونے کا احساس دلایا ہے۔ جب کسی طبقے کو پاکستان کے آئین و قانون پرواہ نہ ہو، اسے ریاست اور حکومت کی رٹ کا بھی کوئی خوف نہ ہو، اس کے پاس اپنے ہی ملک میں ایسے علاقے موجود ہوں جہاں آئین و قانون کی عملداری نہ ہو، ریاست اور حکومت کی رٹ نہ ہو تو لازم ہے کہ ایسا طبقہ منہ زور ہوگا، وہ وسائل پر کسی قانونی گروہ سے زیادہ اپنا حق فائق سمجھے گا۔ پاکستان میں ایسا ہی ہورہا ہے۔ پاکستان انتہاپسندی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 80 ہزار سے زیادہ جانوں اور اربوں ڈالرکا نقصان اٹھا چکا ہے۔ آج پاکستان قرضے کے 
بوجھ تلے دبا ہوا ہے، پاکستان میں شدت پسندی کی جڑیں مضبوط ہوگئی ہیں اور اس سے وابستہ عناصر تن آور درخت بن گئے ہیں اور معاشرے میں تنگ نظری، نفرت، عدم برداشت اور جارحیت مزاج کا حصہ بنتی رہی جس کا خمیازہ آج برداشت کررہے ہیں۔ جب ریاست قتل غارت کرنے والوں کے ساتھ سیاسی اتحاد کرے گی، عوام میں مذہبی منافرت پھیلا کر ایک دوسرے کا ووٹ تقسیم کرنے کی خاطر انھیں گلدستے اور مٹھائیاں پیش کی جائیں گی تو پرتشدد واقعات معمول ہی بنیں گے۔آج تک پاکستان میں اٹھنے والی ہر شدت پسند تحریک اپنے مقاصد کے لیے مذہب اور قوم پرستی کا نام استعمال کرتی آرہی ہے۔ یہاں تک کہ بیرونی طاقتیں بھی پاکستان میں اپنے مقاصد اور اہداف کے لیے مذہب ہی کو آلے کے طور پر استعمال کرتی ہیں یا قوم پرست تحریکوں کی مدد و حمایت کرتی ہیں۔ آج دہشت گردی پوری معیشت کا روپ دھارچکی ہے، شدت پسندی کا زہر ہمارے قومی وجود میں سرایت کرچکا ہے۔ شدت پسند کم و بیش دنیا کے ہر معاشرے، مذہب اور تہذیب میں پائے جاتے ہیں اور وقتاًفوقتاً ان کی کارروائیاں سامنے آتی رہتی ہیں، ان کی تعداد مٹھی بھر اور پورے معاشرے کے مقابلے میں انتہائی کم ہوتی ہے۔ تشویش ناک صورت حال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب یہ شدت پسند عناصر ریاست اور نظام پر اثر انداز ہو کر پورے معاشرے کو یرغمال بنا لیں اور معاشرے میں اپنے وجود سے متعلق ایک خوف اور دہشت پیدا کرنے میں کامیاب ہوجائیں۔پاکستان گزشتہ چند دہائیوں سے اسی طرح کی صورتحال سے دوچار دکھائی دیتا ہے کہ یہاں شدت پسندی نے پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور وہ ریاست اور اس کے نظام کو چیلنج کررہی ہے۔ شدت پسندی نے پورے معاشرے اور ملک کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔ 
 انتہا پسندی کسی بھی شکل میں ہو ملک و قوم کے لیے ہمیشہ مسائل پیدا کرتی ہے۔ اس سے نہ صرف غریب اور کاروباری طبقہ بلکہ پوری قوم متاثر ہوتی ہے۔ اپنے جائز مطالبات منوانے کے لیے ہمارے آئین میں پرامن احتجاج اور جلسے جلسوں کی رعایت موجود ہے مگر انہیں امن و امان میں اور شہری زندگی کے معمولات میں رکاوٹ نہیں بننے دینا چاہئے۔ مہذب ملکوں نے اس حوالے سے قوانین اور ضابطے مرتب کر رکھے ہیں جن کی پابندی ہر گروہ اور تنظیم پر لازم ہے۔ کئی ملکوں نے احتجاج اور مظاہروں کیلئے مناسب مقامات مقرر کر رکھے ہیں لوگ آتے ہیں،اپنا احتجاج ریکارڈ کراتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔ پاکستان میں احتجاج کیلئے اسلام آباد کے ڈی چوک پہنچنا کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتا ہے جس سے ملحق ڈپلومیٹک انکلیو میں غیر ملکی سفارتی عملے کیلئے خطرات پیدا ہو جاتے ہیں۔ یہ رحجان ختم ہونا چاہئے اور دارالحکومت کے باہر کوئی جگہ مخصوص ہونی چاہئے۔وفاقی کابینہ نے پرتشدد انتہا پسندی کی روک تھام کی قومی پالیسی2024، خصوصی عدالتوں کی حدود/ دائرہ کار میں تبدیلی کی منظوری دی ہے۔ پالیسی کے تحت معاشرے میں امن، رواداری اور تنوع کی اقدار کو فروغ دینے اور پرتشدد انتہا پسندی پر قابو پانے کے لیے سوشل، الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کو مؤثرطور پر استعمال کیا جائے گا، اس پالیسی کا مقصد معاشرے کے پسماندہ طبقات کو تحفظ فراہم کرنا بھی ہے۔