فوڈ سپلائی متاثر ،معاشی شرح نمو میں کمی،بیروزگاری بڑھ سکتی ہے
اسلام آباد(خصوصی رپورٹ )سیلاب کی تباہ کاریوں کے باعث رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی گروتھ کا ہدف حاصل نہ ہونے کا خدشہ ہے۔ رواں ماہ ایف بی آر کو 50ارب کے شارٹ فال کا سامنا ہے ،وزارت خزانہ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ مون سون بارشوں اور سیلاب سے مالیاتی پریشر اور متاثرہ علاقوں میں فوڈ سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، ذرائع کی جانب سے بتایا گیا کہ وزیراعظم نے متعلقہ اداروں کو سیلاب سے نقصانات کا تخمینہ لگانے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ ابتدائی طور پر سیلاب کے باعث نقصانات کا تخمینہ 2022 کے سیلاب کی طرح ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، سرکاری عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ 3 ڈائریکشن میں بڑے نقصانات ہو رہے ہیں، زراعت، انفراسٹرکچر، ٹیکس ریونیو متاثر ہونگے، ابتدائی تخمینوں کیمطابق معاشی شرح نمو میں کمی اور بیروزگاری کی شرح میں اضافہ ہو سکتا ہے، سیلاب کے باعث تقریباً 100 ارب روپے سے زائد کے ترقیاتی منصوبے نہیں مکمل ہو سکیں گے، یہ تجویز بھی زیرغور آئی ہے کہ نقصان زیادہ ہونے کی صورت میں عالمی برادری سے بھی تعاون کی درخواست کی جا سکتی ہے، اے ڈی بی نے حکومت پاکستان کی درخواست پر 30 لاکھ ڈالر کی ایمرجنسی گرانٹ منظور کی ہے۔ اے ڈی بی اعلامیہ کے مطابق گرانٹ ایشیا پیسفک ڈیزاسٹر ریسپانس فنڈ سے فراہم کی جائے گی۔ وزارت خزانہ بھی معاشی لحاظ سے سیلاب سے نقصانات پر مبنی رپورٹ آئی ایم ایف، ایشیائی ترقیاتی بینک، عالمی بینک سمیت دیگر شراکت داروں کیساتھ شیئر کرے گی۔ 2022 کے سیلاب کے بعد جنیوا ڈونر کانفرنس میں پاکستان نے ٹوٹل 10 ارب 98 کروڑ ڈالر کی پلیجز حاصل کی تھیں ۔ڈونرز کانفرنس کے تین سال سے زائد عرصے میں پاکستان کو مجموعی طورپر ابھی تک 4 ارب 69 کروڑ ڈالر موصول ہو سکے جس میں پراجیکٹ فنانسنگ کی میں 2 ارب 75 کروڑ ڈالر اور 1 ارب 93 کروڑ ڈالر کموڈیٹی خریداری کیلئے ملے ہیں۔ اسی طرح رواں مالی سال جنیوا ڈونرز کانفرنس کے تحت 1 ارب 26 کروڑ ڈالر فنانسنگ کا ہدف مختص کیا گیاجس میں سے رواں مالی سال کیلئے 76 کروڑ ڈالر سے زائد کی پراجیکٹ فنانسنگ کا تخمینہ لگایا گیا ہے، سیلاب سے نقصانات کیلئے 54 کروڑ ڈالر کی گرانٹس ملنی تھیں لیکن صرف 21 لاکھ ڈالر کی امداد موصول ہوئی۔ یہ بھی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ سیلاب کے بعد مہنگائی بڑھے گی ۔ شدید بارشوں، سیلاب سے ٹیکس ریونیو پر منفی اثرات پڑے ہیں، رواں ماہ ابھی تک 950 ارب ہدف کے بجائے 895 ارب تک جمع ہو سکے ہیں۔ جولائی میں 748 ارب ہدف کی نسبت 754 ارب روپے ٹیکس جمع ہو سکا تھا۔ ذرائع یہ بتاتے ہیں کہ ریونیو کلیکشن میں کمی کے باعث آئی ایم ایف سے اقتصادی جائزہ مذاکرات میں سخت مذاکرات کا سامنا کرنا پڑے گا۔