اسرائیلی جارحیت کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ مشرقی غزہ میں اسرائیلی فوج کی تازہ ترین فضائی اور زمینی کارروائیوں میں مزید 59 فلسطینی جامِ شہادت نوش کر گئے، جس کے بعد غزہ میں اب تک شہدا کی مجموعی تعداد 63 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔
الزیتون میں شدید جھڑپیں
اطلاعات کے مطابق غزہ کے علاقے الزیتون میں حماس کی عسکری ونگ القسام بریگیڈ اور اسرائیلی افواج کے درمیان گھمسان کی لڑائی جاری ہے۔ القسام بریگیڈ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں کو امداد پہنچانے کے لیے آنے والے ہیلی کاپٹروں پر بھی فائرنگ کی گئی۔
اسرائیلی فوجی ہلاک و زخمی
اسرائیلی حکام نے اعتراف کیا ہے کہ حماس کے ساتھ جھڑپ کے دوران ایک اسرائیلی فوجی ہلاک جبکہ 11 زخمی ہوئے ہیں۔ حکام کے مطابق چار فوجی لاپتہ ہیں جن کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ حماس نے انہیں اغوا کر لیا ہے۔
ہینیبل پروٹوکول نافذ
فوجیوں کے لاپتہ ہونے کے بعد اسرائیلی فوج نے ہینیبل پروٹوکول نافذ کر دیا ہے۔ اس کے تحت اگر فوجی اغوا ہو جائیں تو انہیں کسی بھی صورت دشمن کے قبضے میں جانے سے روکنے کے لیے بھرپور طاقت استعمال کی جاتی ہے، حتیٰ کہ اس دوران اپنے ہی فوجیوں کی جان کیوں نہ چلی جائے۔
یرغمالیوں کی ہلاکت
اسرائیلی میڈیا کے مطابق غزہ سے ایک اسرائیلی یرغمالی کی لاش اور دوسرے کی باقیات برآمد ہوئی ہیں۔ دوسری جانب القسام بریگیڈ کے ترجمان ابوعبیدہ نے کہا ہے کہ اسرائیلی بمباری سے یرغمالیوں کی زندگیاں شدید خطرے میں ہیں۔
مزید حملوں کا عندیہ
اسرائیلی حکام نے عندیہ دیا ہے کہ آنے والے دنوں میں فوجی کارروائیاں مزید بڑھائی جائیں گی تاکہ حماس کے خلاف دباؤ میں اضافہ کیا جا سکے۔ادھر عالمی سطح پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسرائیلی حملوں سے شہری ہلاکتوں میں اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر جنگ بندی کی کوششیں کی جائیں تاکہ مزید بے گناہ جانوں کا ضیاع روکا جا سکے۔