غزہ میں اسرائیلی بمباری شدت اختیار کر گئی، مزید 76 فلسطینی شہید

غزہ میں اسرائیلی بمباری شدت اختیار کر گئی، مزید 76 فلسطینی شہید

غزہ: اسرائیلی افواج کی جانب سے غزہ پر جاری بمباری میں شدت آ گئی ہے، جس کے نتیجے میں جمعے کی صبح سے اب تک کم از کم 76 فلسطینی شہید اور درجنوں زخمی ہو چکے ہیں۔

 سب سے ہولناک حملہ شمالی غزہ کے جبالیہ پناہ گزین کیمپ پر ہوا، جہاں ایک ہی خاندان کے گھر کو نشانہ بنایا گیا، اور تقریباً 50 افراد شہید یا لاپتہ ہو گئے۔

عینی شاہدین کا الزام: "اسرائیلی فوج شہریوں کو تفریحاً قتل کر رہی ہے"
الجزیرہ سے بات کرتے ہوئے مقامی رہائشیوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی فوج جان بوجھ کر شہری آبادی کو نشانہ بنا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملبے سے لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری ہے اور درجنوں افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔

 اقوام متحدہ کا ردعمل
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے غزہ کی موجودہ صورتحال کو جنگ کا "سب سے ظالمانہ مرحلہ" قرار دیتے ہوئے کہا:"شمالی غزہ مکمل طور پر محاصرے میں ہے، جہاں امدادی سامان تک نہیں پہنچ رہا۔ قحط زدہ علاقے کو چائے کے چمچ کے برابر امداد دی جا رہی ہے۔"انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر جنگ بندی کرائی جائے اور متاثرہ علاقوں تک مکمل امداد کی رسائی ممکن بنائی جائے۔

 شہادتوں کی تعداد 61,700 سے تجاوز کر گئی
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق:

اب تک کی اسرائیلی بمباری میں کم از کم 53,822 افراد شہید
122,382 سے زائد زخمی
جبکہ غزہ کے حکومتی میڈیا آفس نے دعویٰ کیا ہے کہ شہادتوں کی اصل تعداد 61,700 سے تجاوز کر چکی ہے کیونکہ ہزاروں افراد تاحال ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔

 جنگ کا پس منظر
یہ جنگ 7 اکتوبر 2023 کو اس وقت شروع ہوئی جب حماس نے اسرائیل پر حملہ کر کے:

1,139 اسرائیلی شہریوں کو ہلاک
200 سے زائد افراد کو یرغمال بنا لیا تھا۔
اس کے بعد اسرائیل نے غزہ پر بھرپور فضائی، زمینی اور بحری حملے شروع کیے، جنہیں عالمی برادری کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا جا چکا ہے۔

 عالمی مطالبات اور زمینی حقیقت
اگرچہ بین الاقوامی سطح پر جنگ بندی اور انسانی امداد کی فراہمی کے مطالبات زور پکڑ رہے ہیں، لیکن زمینی صورتحال مسلسل بگڑ رہی ہے۔ غزہ کے لاکھوں شہری شدید بمباری، بھوک، بیماری اور بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی سے دوچار ہیں۔

 عالمی برادری کی خاموشی پر تنقید
مختلف انسانی حقوق کی تنظیموں اور سماجی حلقوں کی جانب سے عالمی رہنماؤں کی خاموشی پر شدید تنقید کی جا رہی ہے اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ:

اسرائیلی مظالم کو روکا جائے
جنگ بندی کرائی جائے
اقوام متحدہ غزہ میں انسانی بنیادوں پر ہنگامی کارروائی کرے۔ یہ جنگ انسانی تاریخ کا ایک بدترین باب بنتی جا رہی ہے، جس میں معصوم فلسطینیوں کی نسل کشی عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ رہی ہے۔