موسمیاتی تبدیلی کی موثر تیاری سے ہی قدرتی آفات کے نقصانات سے بچا جا سکتا ہے، یہ قومی مسئلہ ہے جس پر سب کو مل کر کام کرنا ہے‘پالیسی کا ورکنگ پیپر تمام صوبائی حکومتوں کے ساتھ شیئر کیا جائے گا :وزیراعظم
سیلاب کی صورتحال پر اعلی سطح کا اجلاس بلانے کافیصلہ‘چاروں وزرائے اعلی، وزیراعظم آزاد کشمیر، وزیراعلی گلگت بلتستان اور متعلقہ اداروں کے سربراہ شریک ہوں گے‘ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کیلئے پالیسی پر غور کیا جائیگا
اسلام آباد(آئی این پی )وزیراعظم شہباز شریف نے سیلابی صورتحال پر اعلی سطح کا اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا ہے اور کہا ہے موسمیاتی تبدیلی کی موثر تیاری سے ہی قدرتی آفات کے نقصانات سے بچا جا سکتا ہے، یہ قومی مسئلہ ہے جس پر سب کو مل کر کام کرنا ہے۔وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطا بق وزیرِاعظم محمد شہباز شریف کی ہدایت پر موسمیاتی تبدیلی اور مون سون سے پیدا ہونے والے اثرات سے بروقت نمٹنے کے لیے ایک جامع اور موثر پالیسی پر کام جاری ہے۔ پالیسی کا ورکنگ پیپر تمام صوبائی حکومتوں کے ساتھ شیئر کیا جائے گا تاکہ مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دیا جا سکے۔اعلامیہ میں بتایا گیا کہ ہنگامی صورتحال کے بعد وزیراعظم ایک اعلی سطحی اجلاس طلب کریں گے جس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلی، وزیراعظم آزاد کشمیر، وزیراعلی گلگت بلتستان اور متعلقہ اداروں کے سربراہان شریک ہوں گے۔ اجلاس میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے بروقت نمٹنے کیلئے موثر پالیسی پر غور کیا جائے گا۔شہباز شریف نے کہا کہ آبی ذخائر کی تعمیر اور پانی کے بہتر انتظام کے لئے حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے جو صوبوں کی مشاورت اور ہم آہنگی سے بنائی جائے گی، موسمیاتی تبدیلی ایک حقیقت ہے اور اس کی مثر تیاری سے ہی قدرتی آفات کے نقصانات کم کیے جا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک قومی مسئلہ ہے، جس پر چاروں صوبوں، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور وفاق کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ عوام کو موسمیاتی تبدیلی کے مضر اثرات سے محفوظ بنایا جا سکے۔