پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ آئین سے متصادم ہے، حافظ نعیم الرحمان

پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ آئین سے متصادم ہے، حافظ نعیم الرحمان

جماعت اسلامی پاکستان کے رہنما حافظ نعیم الرحمٰن کے بیانات اور لاہور ہائیکورٹ میں جاری عدالتی سماعت سے متعلق ہے۔

انہوں نے پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ کو آئین سے متصادم قرار دیا ہے اور اس کے خلاف جماعت اسلامی کی جانب سے چیلنج کیا ہے۔ حافظ نعیم الرحمٰن کا کہنا ہے کہ یہ ایکٹ نچلی سطح پر اختیارات منتقل کرنے سے قاصر ہے، جس سے عوام کو براہ راست چیئرمین منتخب کرنے کا حق نہیں دیا گیا ہے، جو غیر جمہوری عمل ہے۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ حکومت اختیارات کی منتقلی کے بجائے پیسوں کی منڈیاں لگانے کی کوشش میں ہے۔
عدالت میں سماعت کے دوران حافظ نعیم الرحمٰن نے سندھ میں بلدیاتی انتخابات کی مثال دی، جہاں انہوں نے کہا کہ وہاں براہ راست انتخابات ہوئے تھے، اور اس بات پر زور دیا کہ اگر نچلی سطح پر بھی انتخابات براہ راست نہیں ہو سکتے تو یہ جمہوریت کے لیے ناقابل قبول ہے۔ عدالت نے الیکشن کمیشن کے وکیل کو ہدایت دی کہ وہ ماضی کے ایکٹ کے مقابلے میں نئے ایکٹ کا تقابلی جائزہ پیش کریں، اور تمام فریقین کو مکمل موقع فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ 
اس سماعت میں یہ بھی بتایا گیا کہ حکومت کا موقف ہے کہ بلدیاتی انتخابات پارٹی بنیادوں پر ہوں گے، اور امیدوار پارٹی پرچم تلے الیکشن لڑیں گے۔ عدالت نے کیس کی سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی ہے۔