وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کچہ ایریا کی ترقی اور خوشحالی کے لیے 23 ارب روپے کے بڑے ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کچہ کے علاقوں کو بھی صوبے کے دیگر ترقی یافتہ حصوں کے برابر لایا جائے گا۔
انہوں نے “اپنا کھیت، اپنا روزگار” پروگرام کے آغاز اور 14 ہزار 500 ایکڑ سرکاری اراضی مقامی افراد کو فراہم کرنے کی ہدایت بھی جاری کی۔وزیراعلیٰ کے مطابق گزشتہ پانچ ماہ کے دوران کچہ کے علاقے میں کوئی بڑا امن و امان کا واقعہ پیش نہیں آیا، جو بہتر سیکیورٹی اقدامات کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس علاقے کو مکمل طور پر محفوظ اور مثالی بنانے کے لیے جامع حکمت عملی پر عمل جاری ہے۔منصوبے کے تحت کچہ میں سکول، ہسپتال، سڑکیں اور پل تعمیر کیے جائیں گے، جبکہ ٹرانسپورٹ سہولت، کلینک آن ویلز اور موبائل ویٹرنری ہسپتال بھی فراہم کیے جائیں گے۔سیکیورٹی نظام کو جدید بنانے کے لیے سولر انرجی سے چلنے والے ڈرون سرویلنس سسٹم کا آغاز کیا جا رہا ہے، جبکہ پولیس گاڑیوں اور اے پی سیز میں کیمرے نصب کیے جائیں گے۔ تھانوں اور چیک پوسٹوں کو سیف سٹی مانیٹرنگ سسٹم سے منسلک کیا جائے گا۔
تعلیمی شعبے میں بھی اہم اقدامات کیے جا رہے ہیں، جن کے تحت 6 ہزار 551 طالبات کو سکول میل پروگرام فراہم کیا جائے گا، جبکہ 300 طلبہ کو ہونہار اسکالرشپس اور 300 کو لیپ ٹاپ دیے جائیں گے۔ 65 سکولوں کی تعمیر، بحالی اور اپ گریڈیشن کے ساتھ 16 نئے سکول اور دو گرلز کالجز بھی قائم کیے جائیں گے۔انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے 108 کلومیٹر سولنگ اور 144 کلومیٹر پر مشتمل 27 سڑکوں کے منصوبے مکمل کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ مثالی گاؤں پراجیکٹ، سیوریج و ڈرینج اور کھیلوں کے منصوبے بھی شروع ہوں گے، جبکہ 125 ملین روپے کے سکلز ڈویلپمنٹ پروگرام کا آغاز بھی کیا جا رہا ہے۔
حکومت نے کچہ میں نادرا رجسٹریشن، شناختی کارڈ اور ب فارم کے اجرا کا بھی آغاز کر دیا ہے، جبکہ سیکیورٹی اہلکاروں کے لیے ہارڈ ایریا الاؤنس کی منظوری دی گئی ہے۔ ناجائز اسلحہ کی واپسی کے لیے ڈیجیٹل مانیٹرنگ پر مبنی خصوصی پلان بھی تیار کیا گیا ہے۔وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ کچہ کے عوام کو ترقی، تحفظ اور باعزت روزگار فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔