امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اپنی پالیسی کی حمایت میں سامنے آنے والا ایک سروے شیئر کر دیا ہے، جس کے بعد یہ معاملہ ایک بار پھر امریکی سیاسی حلقوں میں زیرِ بحث آ گیا ہے۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ ایک تازہ سروے کے مطابق امریکی عوام کی واضح اکثریت ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے ان کے مؤقف کی حمایت کرتی ہے۔ انہوں نے ہارورڈ ہیرس سروے کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ رائے عامہ ان کی ایران پالیسی کے حق میں ہے۔رپورٹس کے مطابق مذکورہ سروے میں بڑی تعداد میں امریکی ووٹرز نے اس بات کی تائید کی کہ ایران کو جوہری صلاحیتیں حاصل کرنے سے روکا جانا چاہیے، جبکہ ایک قابلِ ذکر شرح نے ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کی پالیسی کی بھی حمایت کی۔
تاہم دوسری جانب مختلف سرویز میں مختلف رجحانات سامنے آئے ہیں۔ رائٹرز اور اپسوس کے ایک حالیہ سروے کے مطابق صرف 34 فیصد امریکی ووٹرز نے صدر ٹرمپ کی مجموعی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا ہے، جو امریکی رائے عامہ میں تقسیم کی نشاندہی کرتا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام کا معاملہ امریکی سیاست میں ایک حساس اور متنازع موضوع بنا ہوا ہے، جہاں سخت گیر اور سفارتی دونوں طرح کے مؤقف موجود ہیں اور یہ بحث آئندہ انتخابات کے تناظر میں مزید اہمیت اختیار کر سکتی ہے۔