فیفا نے ایک تاریخی اور غیرمعمولی فیصلہ کرتے ہوئے جلاوطن افغان خواتین فٹبالرز کو ایک بار پھر بین الاقوامی مقابلوں میں اپنے ملک کی نمائندگی کا حق دے دیا ہے، جسے خواتین کھیلوں کے لیے ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
فیفا کونسل نے گورننس ریگولیشنز میں خصوصی ترمیم منظور کی ہے، جس کے تحت غیرمعمولی حالات میں ایسی قومی یا نمائندہ ٹیموں کو رجسٹر کیا جا سکے گا جو اپنے ملک کے اندر سیاسی رکاوٹوں کے باعث باضابطہ طور پر سرگرم نہیں رہ سکتیں۔اس فیصلے کے نتیجے میں وہ افغان خواتین کھلاڑی، جو 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد ملک چھوڑنے پر مجبور ہوگئی تھیں، اب فیفا کے زیرِ انتظام سرکاری بین الاقوامی میچز کھیل سکیں گی۔ طالبان حکومت کی جانب سے خواتین کی تعلیم، ملازمت اور کھیلوں پر سخت پابندیوں کے باعث افغانستان کی خواتین قومی فٹبال ٹیم گزشتہ تقریباً پانچ برس سے کسی بھی باضابطہ بین الاقوامی میچ سے باہر تھی، جبکہ متعدد باصلاحیت کھلاڑیوں نے جلاوطنی اختیار کی یا کھیل کو خیرباد کہہ دیا تھا۔فیفا کی گزشتہ برس منظور کردہ "اسٹریٹیجی فار ایکشن فار افغان ویمنز فٹبال" نے "افغان ویمن یونائیٹڈ" کے قیام کی بنیاد رکھی، جو بیرونِ ملک مقیم افغان خواتین فٹبالرز پر مشتمل ایک منظم اسکواڈ ہے۔
اب اسی اسکواڈ کو افغانستان کی نمائندہ ٹیم کے طور پر عالمی سطح پر تسلیم کیے جانے کا راستہ فراہم کیا گیا ہے۔ فیفا صدر Gianni Infantino کے مطابق یہ قدم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے کہ کسی بھی خاتون کھلاڑی کو ایسے حالات کی وجہ سے بین الاقوامی فٹبال سے محروم نہ ہونا پڑے جو اس کے اختیار سے باہر ہوں۔اس وقت انگلینڈ اور آسٹریلیا میں کھلاڑیوں کے انتخابی کیمپ جاری ہیں، جبکہ افغان ویمن یونائیٹڈ کے آئندہ میچز جون کے خواتین کے بین الاقوامی ونڈو میں متوقع ہیں۔ اگرچہ یہ ٹیم 2027 ویمنز ورلڈ کپ کوالیفکیشن میں شامل نہیں ہو سکے گی، تاہم مستقبل کے اولمپک اور دیگر فیفا ایونٹس میں شرکت کے دروازے اس کے لیے کھل گئے ہیں۔اس فیصلے کو عالمی فٹبال حلقوں اور سوشل میڈیا صارفین نے خواتین کے حق، مزاحمت اور امید کی علامت قرار دیا ہے، جبکہ کئی مبصرین اسے طالبان کی پابندیوں کے خلاف کھیل کے میدان میں ایک مضبوط عالمی جواب بھی کہہ رہے ہیں۔