کابل (آئی این پی )شمالی افغانستان سے تعلق رکھنے والے تاجک طالبان کمانڈر، مولوی عبدالقادر سعد نے طالبان قیادت پر الزام عائد کیا ہے کہ تحریک پر پشتونوں کا غلبہ ہو چکا ہے اور غیر پشتون علاقوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ بی بی سی رپورٹ کے مطابق واضح نہیں ہے کہ یہ بیان کس وقت دیا گیا، تاہم بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ حال ہی میں دیا گیا ہے۔ طویل مدت سے طالبان کمانڈر رہنے والے مولوی عبدالقادر سعد نے یہ غیرمعمولی تنقید شمالی صوبے سرِ پل میں ایک مسجد میں خطاب کے دوران کی۔مسجد میں خطاب کے دوران مولوی سعد نے ملک میں بڑھتی بے چینی اور اس کے ممکنہ رد عمل سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ بعض شمالی تاجک طالبان کو اپنی ہی برادریوں سے انتقامی کارروائی کا خدشہ ہے۔انھوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ چرواہوں اور ان پڑھ افراد کو اعلی عہدوں پر فائز کر کے مقامی آبادیوں پر مسلط کیا گیا ہے۔ انھوں نے خبردار کیا کہ طالبان کا نظام ممکنہ طور پر ختم ہو سکتا ہے، اور یہ بھی کہا کہ شمال کے بعض طالبان جنگجو اب اپنی ہی تاجک برادریوں کی جانب سے انتقامی کارروائی کے خوف میں مبتلا ہیں، ان کے پاس جانے کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ آج ہم اپنی ہی قوم اور اپنی ہی برادری میں بے عزت ہو چکے ہیں۔ ہم سے ہماری عزت چھین لی گئی ہے، ہمارے جہاد کا فخر ہم سے لے لیا گیا ہے۔ ہمارے پاس کوئی طاقت نہیں رہی۔مولوی عبدالقادر سعد کی یہ تقریر سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر موجود ہے۔مولوی سعد نے جن خیالات کا اظہار کیا، ان کی تائید بدخشاں سے تعلق رکھنے والے ایک اور تاجک طالبان کمانڈر صلاح الدین سالار نے بھی کی، جنھوں نے 26 اپریل کو سعد کے خطاب کی ویڈیو فیس بک پر شیئر کرتے ہوئے لکھا: ہمارے مخالفین نے آپ کے بارے میں جو طعنے دیے اور جو پیش گوئیاں کی تھیں، وہ سب ہمیں بھی سنائی گئیں، لیکن ہم نے ان پر یقین کرنے سے انکار کیا۔صلاح الدین کی پوسٹ میں مزید لکھا گیا: ہم اس بات پر اصرار کرتے رہے کہ امارت (طالبان حکومت) کے رہنماں کا کوئی بڑا مقصد ہو گا۔ مگر آخر کار ہمارے مخالفین کی تمام باتیں سچ ثابت ہو گئیں۔اس نوعیت کے تبصرے بالکل نئے نہیں ہیں، تاہم سنہ 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے ان میں اضافے کا تاثر ملتا ہے۔پنج شیر سے تعلق رکھنے والے تاجک طالبان کمانڈر عبدالحامد خراسانی نے اس بات پر بارہا تنقید کی ہے جسے وہ گروپ میں موجود نسلی تعصب کہتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں کئی سینیئر ازبک طالبان کمانڈروں نے بھی اسی طرح کے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ناقدین کا کہنا ہے کہ طالبان قیادت نے بتدریج کئی غیر پشتون کمانڈروں کو پس منظر میں دھکیل دیا ہے، یا تو انھیں انتظامی عہدوں پر تعینات کر کے، یا انھیں ان کے شمالی طاقت کے مراکز سے ہٹا کر جنوبی صوبوں میں منتقل کر کے۔ اسے بعض لوگ اندرونی جلاوطنی کی ایک شکل کے طور پر دیکھتے ہیں۔ان الزامات کے ساتھ ساتھ، غیر پشتون علاقوں کو نظر انداز کیے جانے کی شکایات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔اس کے علاوہ قدرتی وسائل کے بڑے پیمانے پر نکالے جانے کے دعوے بھی کیے جا رہے ہیں، بالخصوص بدخشاں میں کان کنی کی سرگرمیوں کے حوالے سے، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ پشتون طالبان عہدیداروں سے منسلک کاروباری اداروں کے ذریعے کی جا رہی ہیں۔ اس سے معاشی فوائد کی غیر مساوی تقسیم اور مقامی آبادی کو حقوق سے محروم کیے جانے کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔