تہران(آئی این پی ) ایران میں حکومت کی منظوری کے بعد ایک نئی سکیم متعارف کرائی جا رہی ہے، جس کے تحت شہری سبسڈی کی ضمانت پر اشیا ادھار خرید سکیں گے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق اس سکیم کے تحت ہر خاندان کیلئے سبسڈی کی حد مقرر ہو گی اور وہ ہر دو ماہ بعد اسی حد تک بنیادی ضرورت کی چیزیں دکانوں سے ادھار لے سکیں گے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس منصوبے کے لیے درکار کریڈٹ نجی کمپنیوں کی جانب سے فراہم کیا جائے گا۔حالیہ ہفتوں میں ایران میں متعدد اشیا کی قیمتیں کئی گنا بڑھ چکی ہیں۔تہران سے شائع ہونے والے اخبار نے حال ہی میں 2026 میں مہنگائی کے حوالے سے تین منظرنامے پیش کیے ہیں۔اخبار کے مطابق اگر امریکہ کے ساتھ معاہدہ ہو جاتا ہے تو بھی سب سے خوش کن منظر نامہ یہ ہو گا کہ مہنگائی کی شرح 49 فیصد رہے گی۔ اخبار دنیائے اقتصاد کا کہنا ہے کہ اگر نہ جنگ اور نہ ہی امن والی صورتحال رہتی ہے اور وہی کیفیت برقرار رہتی ہے جو مارچ میں امریکی اور اسرائیلی حملوں سے پہلے تھی، تو مہنگائی 67 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ جبکہ جنگ کے جاری رہنے کی صورت میں ایران کو 123 فیصد کی انتہائی مہنگائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔