وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ:
نوجوان افرادی قوت ملک کا قیمتی سرمایہ ہے، اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات ناگزیر ہیں۔ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ رپورٹ بچوں کی ترقی اور اُن کو درپیش چیلنجز کو اجاگر کرتی ہے۔پاکستان نے بچوں کے حقوق کے فروغ کے لیے قانون سازی، نفاذ اور عوامی آگاہی کے میدان میں پیش رفت کی ہے، مگر اس مقصد کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔بچوں کے حقوق کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے، اور ریاست پاکستان بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے مکمل طور پر پُرعزم ہے۔پاکستان اقوام متحدہ کے کنونشن برائے حقوقِ اطفال (UNCRC) پر مکمل عملدرآمد کرے گا۔
اقلیتوں کے حقوق سے متعلق قانون سازی
اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ:سینیٹ نے "نیشنل کمیشن برائے اقلیتوں کے حقوق" کے قیام کے لیے قانون سازی کی منظوری دی ہے، جو ملک میں اقلیتوں کے تحفظ اور اُن کے حقوق کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
خواتین کے حقوق کے لیے اقدامات
وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت حقوق نسواں کے لیے بھی مختلف اقدامات کر رہی ہے تاکہ خواتین کو معاشی، سماجی اور قانونی طور پر بااختیار بنایا جا سکے۔