پبلک ٹرانسپورٹ کا شارٹ فال

 شہری مشکلات کا شکار،لاہور میں 108 کلومیٹر پر محیط ماس ٹرانزٹ نیٹ ورک بچھانے کا منصوبہ 
لاہور :لاہور میں پبلک ٹرانسپورٹ کا شدید فقدان ہے جس کی وجہ سے شہریوں کو روزمرہ سفر میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سڑکوں پر بڑھتی ہوئی ٹریفک، لمبے ٹریفک جام اور وقت کا ضیاع معمول بن چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لاہور میں جدید اور م ئوثر پبلک ٹرانسپورٹ نظام کی اشد ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے شہر میں نئے ٹرانزٹ سسٹم شروع کرنے کیلئے سٹڈی کرنے کا حکم دیا ۔ محکمہ ٹرانسپورٹ ، نیسپاک، ماس ٹرانزٹ اتھارٹی اور پنجاب ٹرانسپورٹ کمپنی نے ابتدائی تجاویز تیار کر لی ہیں۔ ماس ٹرانزٹ سسٹم کے نئے روٹس بھی تجویز کر دئیے گئے ۔ ٹرانسپورٹ اینٹی گریڈ سسٹم کے تحت لاہور میں 108 کلومیٹر پر محیط ماس ٹرانزٹ نیٹ ورک بچھانے کا منصوبہ ہے۔ بلیو لائن، ییلو لائن اور پرپل لائن کے مجوزہ روٹس کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔مجوزہ منصوبوں کے مطابق، بلیو لائن کا ایک روٹ ٹا ئون شپ سے شروع ہو کر جیل روڈ کے راستے گلبرگ تک جائے گا۔ یہ لائن ٹا ئون شپ، فیصل ٹا ئون، دھلے فلیٹس، برکت مارکیٹ اور مین بلیوارڈ گلبرگ کے علاقوں سے گزرے گی۔ اسی طرح ایک اور لائن کیلئیبھاٹی گیٹ سے ایئرپورٹ تک کا راستہ تجویز کیا گیا ہے، جو اردو بازار، صفانوالہ چوک، ریلوے سٹیشن، علامہ اقبال روڈ اور کینٹ کے علاقوں سے گزرے گی۔نئی میٹرو لائنز کی تفصیلی فزبیلٹی کے لئے بین الاقوامی فرمز کی خدمات بھی حاصل کی جائیں گی تاکہ منصوبوں کی عالمی معیار کے مطابق پلاننگ اور عمل در آمد ممکن بنایا جا سکے۔