لاہور میں بسوں کا شارٹ فال

  1318 کلومیٹر مرکزی سڑکوں میں سے صرف 90 کلومیٹر پرسفری سہولت ، 1574 بسیں چلانے کی تجویز 
لاہور (خصوصی رپورٹ) شہر میں 113 روٹ مسافر بسوں سے محروم ہیں ،100 سپیڈو بسیں رواں دواں اور 1474 مزید درکار ہیں۔ ماس ٹرانزٹ سسٹم یعنی میٹروبس اور اورنج لائن ٹرین صرف 54 کلومیٹر پر محیط ہیں۔تفصیل کے مطابق لاہور میں پبلک ٹرانسپورٹ کا نہ ہونا سموگ بڑھنے کی وجہ قرار دیا گیا،لاہور میں کتنے کلومیٹر کا انفراسٹرکچر اور کتنے انفراسٹرکچر پر پبلک ٹرانسپورٹ کی عدم فراہمی ہے ۔ شہر میں مرکزی، ثانوی اورتیسرے درجے کی سڑکوں کا انفراسٹرکچر 3300 جبکہ 1318 کلومیٹر طویل مرکزی سڑکوں پر ٹرانسپورٹ کا چلنا ضروری ہے لیکن صوبائی دارالحکومت میں مرکزی شاہراہوں پر صرف 90 کلومیٹر پر پبلک ٹرانسپورٹ چل رہی ہے جبکہ 1228 کلومیٹر کا انفراسٹرکچر پبلک ٹرانسپورٹ سے محروم ہے۔ لاہوریوں کو سفری سہولیات کی فراہمی کے لئے 1574 بسیں درکار ہیں، ان میں سے 100 سپیڈو بسیں سہولیات فراہم کر رہی ہیں۔شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ کی فراہمی کی فراہمی کے لئے 1474 مزید بسیں درکار ہیں۔دوسری طرف میٹرو بس اور اورنج لائن ٹرین 27،27کلومیٹر پر محیط ہیں۔ شہر میں 122 روٹ کو فعال کرنا ضروری جبکہ 113 روٹ پبلک ٹرانسپورٹ سے مکمل طور پر محروم ہیں۔دوسری طرف محکمہ ٹرانسپورٹ نے8مختلف مراحل میں پبلک ٹرانسپورٹ کیلئے 1574 بسیں چلانے کی تجویز دی ،پنجاب حکومت کو پہلے مرحلے میں 14روٹ فوری چلانے کی استدعا بھی کی گئی۔ پہلے فیز میں محکمہ ٹرانسپورٹ نے 200 بسوں کی ڈیمانڈ کر دی مگر موجودہ حکومت کے دور اقتدار میں ایک بھی نئی بس سڑکوں پر نہیں چل سکی۔ پبلک ٹرانسپورٹ کا پہلا مرحلہ 129 کلومیٹر طویل ہے۔