ریلوے کی بدحالی کا ذمہ دار کون؟

پاکستان ریلوے جو کبھی ملک کی معیشت، تجارت، اور عوامی نقل و حمل کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا تھا، آج ایک زبوں حال ادارہ بن چکا ہے۔ ایک ایسا نظام جو برصغیر کے انگریز دور میں انتہائی مضبوط بنیادوں پر قائم ہوا تھا، رفتہ رفتہ بدانتظامی، سیاسی مداخلت، کرپشن اور ٹیکنالوجی کی عدم ترقی کا شکار ہو کر تباہی کی راہ پر گامزن ہو گیا۔
پاکستان ریلوے کی بنیاد انگریزوں نے 19ویں صدی میں رکھی تھی۔ آزادی کے بعد پاکستان نے اس نظام کو ورثے میں حاصل کیا۔ ابتدائی دہائیوں میں یہ ادارہ نہ صرف منافع بخش تھا بلکہ ملک بھر میں لاکھوں افراد کو ملازمتیں فراہم کرتا تھا، اور زراعت، صنعت، اور تجارتی سرگرمیوں کو جوڑے رکھتا تھا۔
پاکستان ریلوے میں بد انتظامی اور مالی بدعنوانی نے اس کے ڈھانچے کو اندر سے کھوکھلا کر دیا ہے ترقیاتی فنڈز کا غلط استعمال، جعلی بلنگ، اور ناقص منصوبہ بندی نے ادارے کی ترقی کو روک دیا ہے
ہر آنے والی حکومت نے ریلوے کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ میرٹ کو نظر انداز کر کے نااہل افراد کی تقرریوں نے ادارے کی کارکردگی کو تباہ کیا فیصلے تجربہ کار افسران کی بجائے وزیروں اور سیاسی مشیروں نے کیے۔
ریلوے کے انجن، کوچز، پٹڑیاں، سگنل سسٹم، سب کے سب پرانے ہو چکے ہیں۔ نہ ان کی وقت پر مرمت کی گئی اور نہ ہی ان کی جگہ نئی ٹیکنالوجی متعارف کرائی گئی۔ اس سے نہ صرف حادثات کی شرح اضافی ہوا بلکہ مسافروں کا اعتماد بھی ختم ہو گیا۔
ریلوے کو ہمیشہ دوسرے شعبوں کے مقابلے میں کم بجٹ دیا گیا۔ نتیجتاً، نہ تو نئی گاڑیاں خریدی جا سکیں، نہ پرانی گاڑیوں کی دیکھ بھال ممکن ہوئی، اور نہ ہی نظام کو جدید بنایا جا سکا۔
گزشتہ دو دہائیوں میں نجی بس سروسز، ہوائی سفر، اور ذاتی گاڑیوں کے استعمال میں خاطر خواہ اضافہ ہوا، جس سے ریلوے کا مسافر کم ہوا اور آمدن میں بھاری کمی آئی۔
ریلوے کی مزدور یونینز اکثر ذاتی یا سیاسی مقاصد کے لیے ہڑتالیں کرتی رہیں، جس سے ادارے کی سروسز میں تعطل پیدا ہوا اور عوامی اعتماد کو دھچکا پہنچا۔
مسلسل حادثات، اور ان پر موثر اقدامات نہ کرنا، ادارے کی ساکھ پر کاری ضرب تھی۔ ٹرینوں کے ٹکرانے، آتشزدگی، اور ریلوے کراسنگ پر حادثات معمول بن گئے
پاکستان ریلوے کی تباہی نے نہ صرف قومی خزانے پر بوجھ ڈالا بلکہ عام آدمی کی زندگی کو بھی متاثر کیا۔ غریب طبقہ، جو سستا سفر ریلوے کے ذریعے کرتا تھا، اب مہنگی اور غیر محفوظ متبادل ٹرانسپورٹ پر مجبور ہے۔ برآمدات اور درآمدات کے لیے بھی ایک موثر نقل و حمل کا نظام ناکارہ ہو چکا ہے۔اگر ادارے کو سیاسی مداخلت سے آزاد کر کے ایک خودمختار بورڈ کے تحت چلایا جائے اور جدید ٹیکنالوجی اور انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کی جائے تو یہ حکومتی ریونیو میں اور بھی اضافہ کرکے معیشت کی بہتری کا باعث بنے
کرپشن کے خاتمے کے لیے شفاف نظام متعارف کروایا جائے۔
پرائیویٹ سیکٹر کی شراکت داری کو فروغ دیا جائے، جیسا کہ دنیا کے کئی ممالک میں ہوتا ہے مسافروں کی سہولت کے لیے سروس کو وقت کے مطابق اپ ڈیٹ کیا جائے۔
پاکستان ریلوے کی تباہی صرف ایک ادارے کا زوال نہیں، بلکہ یہ ہماری قومی منصوبہ بندی، انتظامی نااہلی، اور سیاسی مفادات کی بھینٹ چڑھنے کی ایک علامت ہے۔ اگر سنجیدہ اصلاحات نہ کی گئیں تو یہ ادارہ مکمل طور پر ماضی کا حصہ بن سکتا ہے۔ لیکن اگر نیت، حکمتِ عملی، اور عزم درست ہوں تو پاکستان ریلوے ایک بار پھر ملک کی ترقی کا انجن بن سکتا ہے۔