کشمیری مسلمانوں کے گھروں کو مسمار کرنا ،مزدوروں اورعام شہریوں کو حراست میں لیاجانا معمول بن گیا
سرینگر (آئی این پی )مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت نے پہلگام حملے کی آڑ میں ایک بار پھر کشمیری مسلمانوں کو بدنام کرنے اور دہشتگردی کا جھوٹا الزام لگانے کی مہم تیز کردی ۔ میڈیارپورٹس کے مطابق مودی سرکار نے اپنی ناکامی چھپانے کیلئے حملے کی جگہ پر موجود مسلمان ورکرز اور سیاحوں سے تفتیش شروع کردی ہے۔ اطلاعات کے مطابق بھارتی انتظامیہ نے وادی کشمیر کے 87 میں سے 48 سیاحتی مقامات کو بند کر دیا ہے اور وسیع پیمانے پر کشمیری نوجوانوں کے خلاف کریک ڈائون شروع کر دیا ہے۔بھارتی انٹیلی جنس اداروں کے مبینہ انٹرسیپٹس کی بنیاد پر یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ حملے کے بعد کچھ نام نہاد سلیپر سیلز متحرک ہوئے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ بھارتی حکومت اپنی سنگین سکیورٹی ناکامیوں کا الزام معصوم کشمیری عوام پر ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق پہلگام میں پیش آنے والے حملے کے بعد بھارت نے کشمیری مسلمانوں کے گھروں کو مسمار کرنا شروع کردیا ہے، مقامی محنت کشوں، سیاحتی مراکز پر کام کرنے والے مزدوروں اور عام شہریوں کو بے دردی سے حراست میں لیا جا رہا ہے۔