ریاض: سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان حالیہ کشیدگی کے تناظر میں اعلیٰ سطح پر رابطے کا اہم سلسلہ سامنے آیا ہے۔
اماراتی نائب صدر، نائب وزیراعظم اور صدارتی عدالت کے سربراہ شیخ منصور بن زاید آل نہیان نے سعودی عرب کے دورے کی دعوت قبول کرلی ہے اور وہ منگل 29 ستمبر کو ریاض پہنچیں گے۔سعودی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق شیخ منصور بن زاید کو سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے دورے کی دعوت دی ہے۔یہ دورہ اس لحاظ سے اہم قرار دیا جا رہا ہے کہ یمن کے معاملے پر دونوں خلیجی ممالک کے درمیان اختلافات سامنے آنے کے بعد یہ اعلیٰ سطح پر براہِ راست رابطے کی نمایاں پیش رفت ہے۔ اے ایف پی کے مطابق گزشتہ کچھ عرصے کے دوران دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی رہی، تاہم جولائی میں دونوں جانب کے اعلیٰ حکام اور وزرا نے سوشل میڈیا پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان دوستی اور اتحاد پر زور دیا تھا۔اماراتی سرکاری خبر رساں ادارے ’وام‘ کے مطابق شیخ منصور بن زاید کا دورہ سعودی وزیر دفاع کی دعوت پر ’برادرانہ دورہ‘ ہوگا۔ تاہم سرکاری بیانات میں دورے کے دوران ہونے والی ملاقاتوں کے ایجنڈے یا زیرِ بحث آنے والے مخصوص معاملات کی تفصیلات سامنے نہیں لائی گئیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب سعودی عرب کو یمن کے حوثیوں کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کے باعث سکیورٹی دباؤ کا سامنا ہے۔ رائٹرز کے مطابق سعودی عرب نے حالیہ عرصے میں حوثیوں کے خلاف حمایت حاصل کرنے کے لیے مختلف ممالک سے رابطے بھی کیے ہیں، تاہم یہ واضح نہیں کہ متحدہ عرب امارات سے متعلق حالیہ رابطے کا مقصد کسی نئی عسکری شراکت داری کی بحالی ہے یا نہیں۔دونوں ممالک ماضی میں یمن میں ایک ہی اتحاد کا حصہ رہے ہیں، تاہم بعد ازاں یمن کے حوالے سے ان کے مفادات اور حکمتِ عملی میں اختلافات سامنے آئے۔ موجودہ دورہ دونوں ملکوں کے درمیان اعلیٰ سطح کے رابطوں اور باہمی تعلقات کی سمت کے حوالے سے اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے، تاہم اس کے نتائج اور ممکنہ پیش رفت کا تعین ملاقات کے بعد جاری ہونے والے سرکاری بیانات سے ہوگا۔