بیرسٹر گوہر سہیل آفریدی لانگ مارچ پرپھڈا علامہ ناصر عباس محمود اچکزئی
لانگ مارچ کے لیے پی ٹی آئی قیادت نے رابطہ کمیٹی بنائی نہ تیاری نظر آئی ،انتظامی فنانس کمیٹی کا بھی وجود نہ تھا، جامع ایجنڈا دیا تھا:تحریک تحفظ آئین پاکستان ،تحریک انصاف اپوزیشن اتحاد کا حصہ ، 27 ستمبرکیلئے دی گئی کال بھی مشترکہ تھی : ترجمان
اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک ) پی ٹی آئی اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کی قیادت میں لانگ مارچ ملتوی کرنے پر اختلافات شروع ہوگئے ہیں ذرائع کے حوالے سے دعوی کیا ہے کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کا کہنا ہے کہ 27 ستمبر کے لانگ مارچ پر مشاورت کی نہ موخر کرنے پر اعتماد میں لیا گیا، قیادت نے لانگ مارچ کہاں سے شروع کرنا تھا اور کہاں تک جانا تھا نہیں بتایا گیا.تحریک تحفظ آئین پاکستان کے مطابق لانگ مارچ کے لیے پی ٹی آئی قیادت نے کورآرڈینیشن کمیٹی بنائی نہ تیاری نظر آئی لانگ مارچ کے لیے انتظامی کمیٹی نہ ہی فنانس کمیٹی کا جود تھا، پی ٹی آئی کو لانگ مارچ کے لیے جامع ایجنڈا دیا تھا، مشاورت کے بغیر لانگ مارچ ملتوی کرنے کا اعلان کیا گیا ہے. تحریک تحفظ آئین پاکستان کا کہنا ہے کہ لانگ مارچ ملتوی کرنے پر پی ٹی آئی کے کارکنان غصے میں ہیں، پی ٹی آئی نے 4 اکتوبر کو لانگ مارچ پر بھی مشاورت نہیں کی ہے تحریک تحفظ آئین پاکستان کے ساتھ پس پردہ کسی کا رابطہ نہیں، بیرسٹر گوہر بتاتے ہیں کہ ان کے ساتھ پس پردہ رابطے ہیں، پی ٹی آئی کو27 ستمبر کو ہی لانگ مارچ کرنا چاہیے تھا، ان کو چاہیے تھا لانگ مارچ 4 اکتوبر تک اسلام آباد پہنچ جاتا۔دوسری جانب ترجمان اخونزادہ یوسفزئی نے کہا کہ 27 ستمبر کی کال کو سربراہی اجلاس میں متفقہ طور پر اپوزیشن اتحاد کی مشترکہ کال قرار دیا گیا تھا، اجلاس میں سندھ اور بلوچستان میں احتجاج کے حوالے سے حکمتِ عملی بھی طے کی گئی تھی،ترجمان نے کہا کہ وزیراعلیٰ اور تحریک انصاف کی قیادت کے ساتھ اس معاملے پر تفصیلی مشاورت ہوئی تھی، ترجمان کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا تھا کہ 27 ستمبر کا مارچ ملتوی کرنے کا فیصلہ تحریک انصاف کی پولیٹیکل کمیٹی کا تھا، سیاسی کمیٹی کے فیصلے کے اعلان سے قبل بیرسٹر گوہر قائدینِ حزبِ اختلاف کے پاس آئے تھے، بیرسٹر گوہر کو واضح بتایا گیا تھا 27 ستمبر سے ایک ایک دن ہمارے لیے اہم ہے،ترجمان کے مطابق بیرسٹر گوہر کو کہا تھا کہ یہ وقت دوبارہ نہیں آئے گا، موجودہ حالات میں یہ وقت پاکستان کے جمہوری مستقبل اور آئین کی بالادستی کیلئے نہایت اہم ہے۔