سیلابی ریلوں کے باعث زمین کا شدید کٹا وجاری ،متعدد بستیاں صفحہ ہستی سے مٹ گئی ،گاوں سوڈا رحمانی، جو 40 گھروں پر مشتمل تھا، مکمل طور پر دریا میں سما گیا
پانی کے کٹا ئو نے گائوں باقرکی کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ، جہاں آدھے سے زیادہ مکانات پانی میں بہہ چکے، ستلج کنارے 80 کلومیٹر طویل بیلٹ پر تباہی کے مناظر
متاثرہ دیہات کے مکین حکومتی امداد کے منتظر ہیں جبکہ غذائی قلت نے حالات کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ جانوروں کیلئے چارے کی شدید کمی ،ہزاروں افراد مشکلات کا شکار
پاکپتن (آئی این پی ) پنجاب میں سے سیلاب کا خاتمہ تاحال نہیں ہوسکا ، یہ سیلاب تاریخ کا سب سے طویل سیلاب ثابت ہورہا ہے۔ پاکپتن میں دریائے ستلج کے پانی سے آنے والا درمیانے درجے کا سیلاب تاحال جاری ہے، جس نے علاقے میں بڑے پیمانے پر تباہی مچادی ہے۔ سیلابی ریلوں کے باعث زمین کا شدید کٹا جاری ہے اور متعدد بستیاں صفحہ ہستی سے مٹ گئی ہیں۔گاوں سوڈا رحمانی، جو 40 گھروں پر مشتمل تھا، مکمل طور پر دریا میں سما گیا ہے، جبکہ اب پانی کے کٹا ئو نے گائوں باقرکی کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، جہاں آدھے سے زیادہ مکانات پانی میں بہہ چکے ہیں۔دریائے ستلج کے کنارے تقریبا 80 کلومیٹر طویل بیلٹ پر تباہی کے مناظر دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ متاثرہ دیہات کے مکین حکومتی امداد کے منتظر ہیں جبکہ غذائی قلت نے حالات کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ جانوروں کیلئے چارے کی شدید کمی بھی درپیش ہے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ دریائے ستلج میں اس بار آنے والے سیلاب کا دورانیہ تاریخ کے مقابلے میں سب سے زیادہ طویل ہے، جس نے ہزاروں افراد کو مشکلات اور بے گھر ہونے پر مجبور کردیا ہے۔