لاہور ،کوئٹہ،گلگت( )پی ڈی ایم اے نے مون سون فلڈ فیکٹ شیٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ دریائے چناب اور دریائے سندھ میں مختلف مقامات پر تاحال نچلے درجے کا سیلاب ہے ،گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران لاہور ،لیہ، بہاولنگر، بہاولپور، نارووال، بھکر، قصوراور سیالکوٹ میں بارشیں ریکارڈ کی گئیں، آج بھی پنجاب کے بیشتر اضلاع میں بارشیں متوقع ہیں،ادھر کمالیہ میں بارشوں کے باعث دریائے راوی میں جھلا رسگھلا پر زمینی کٹا و?سے سینکڑوں ایکڑ اراضی دریا برد ہوگئی ، مکئی، چاول اور سبزیوں کی فصلیں پانی میں ڈوب گئیں۔ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان کاٹھیا کے مطابق تاحال دریائے جہلم، راوی اور ستلج میں پانی کا بہا و?نارمل سطح پرہے ، نارووال بسنتر نالہ کے مقام پر نچلے درجے کی سیلابی صورتحال ہیجبکہ گزشتہ رات رودکوہیوں میں نچلے سے درمیانے درجے کے سیلابی ریلے گزرے تاہم کوئی جانی و مالی نقصان رپورٹ نہیں ہوا،تربیلا ڈیم میں پانی کی سطح 88 فیصد ہے اور منگلا ڈیم 58 فیصد تک بھر چکا۔بارشوں کے باعث مختلف حادثات کے دوران پنجاب میں ابتک 162 شہری جاں بحق ، 564 زخمی، 214 گھر متاثر اور 121 مویشی ہلاک ہوچکے۔دوسری طرف گلگت بلتستان کی وادی بگروٹ میں گلیشیئر پھٹنے سے باپ بیٹا گہری کھائی میں جاگرے جس کے بعد ریسکیو ٹیموں نے جائے حادثہ پر پہنچ کر سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ ضلع دیامر کے علاقے کھنبری میں بارش کے باعث سیلاب سے تیار فصلوں، زمینوں اور واٹر چینلز کو نقصان پہنچا۔ادھر شاہراہ بابوسر پر لاپتا سیاحوں کی تلاش کیلئے11 ویں روز بھی سرچ آپریشن جاری ہے، نجی ٹی وی کی خاتون اینکر اور ان کے خاندان کا ابھی تک سراغ نہیں لگ سکا۔ترجمان گلگت بلتستان حکومت فیض اللہ فراق کا کہنا ہے کہ صوبے میں ایمرجنسی نافذ ہے، سیلابی بحران سے نکلنے اور متاثرین کی بحالی میں وفاقی حکومت کی توجہ درکار ہے۔ادھر بلوچستان میں موسلادھار بارشوں کے باعث برساتی نالوں میں سیلابی صورتحال ہے۔