پاکستان سعودی عرب کیلئے بطور ایک دفاع فراہم کرنے والے اہم ملک کے طور پر سامنے آیا ہے،
پاکستان اب ایک بڑے مسلم فوجی مڈل پاور کے طور پر اہم سفارتی اور محافظ کا کردار ادا کر رہا ہے:سینیئر سیاستدان
اسلام آباد(آئی این پی )سینیئر سیاستدان سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کیلئے بطور ایک دفاع فراہم کرنے والے اہم ملک کے طور پر سامنے آیا ہے، گریٹر اسرائیل کے بڑھتے ہوئے خطرے اور امریکی دفاعی ضمانتوں پر اعتماد کے فقدان نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دفاعی معاہدے کی راہ ہموار کی ہے، اس تاریخی دفاعی معاہدے کا سہرا فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور سعودی ولی عہد اور وزیر اعظم محمد بن سلمان کے سر جاتا ہے، جو ایک مسلم اصلاحات پسند ر اور اپنے ملک کو تیزی سے تبدیلی کی راہ پر گامزن کر رہے ہیں۔تفصیل کے مطابق سینیٹر مشاہد حسین سید نے اپنے تھنک ٹینک پاکستان-چائنا انسٹیٹیوٹ کے زیرِ اہتمام پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدے کی اہمیت اور مضمرات پر مشتمل پاکستان اور سعودی عرب،مسلم دنیا کے تزویراتی دفاعی شراکت دار کے عنوان سے پہلی جامع تحقیقی رپورٹ کا اجرا کر دیا۔31 صفحات پر مشتمل یہ رپورٹ سینیٹر مشاہد حسین سید کے لکھے گئے دیباچے اور اہم نکات کے ساتھ 17 ستمبر کو طے پانے والے پاکستان-سعودی عرب دفاعی معاہدے کی اہمیت، مضمرات اور جیوپولیٹیکل تناظر کا احاطہ کرتی ہے۔اس رپورٹ میں پاکستان-سعودی عرب تعلقات کے اہم سفارتی واقعات کی ایک فیکٹ شیٹ بھی شامل ہے، نیز اہم فوجی معاہدوں اور مشرق وسطی میں مسلم ممالک کو دفاع فراہم کرنے کے حوالے سے پاکستان کے ریکارڈ کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔سینیٹر مشاہد حسین نے اس تاریخی دفاعی معاہدے کا سہرا دو اہم فیصلہ سازوں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور سعودی ولی عہد اور وزیر اعظم محمد بن سلمان (ایم بی ایس ) کے سر باندھا ہے جو ایک مسلم اصلاحات پسند رہنماہیں اور اپنے ملک کو تیزی سے تبدیلی کی راہ پر گامزن کر رہے ہیں