عظمیٰ بخاری کا خیبرپختونخوا میں ترقیاتی منصوبوں سے قبل بولیوں اور حصوں کی تقسیم پر تنقید

عظمیٰ بخاری کا خیبرپختونخوا میں ترقیاتی منصوبوں سے قبل بولیوں اور حصوں کی تقسیم پر تنقید

وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے بیرسٹر سیف کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے خیبر پختونخوا میں ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے تنقید کی ہے۔

 انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ترقیاتی منصوبے بعد میں شروع ہوتے ہیں، پہلے حصے بانٹنے اور بولیاں لگانے کا عمل ہوتا ہے۔ انہوں نے 40 ارب روپے کے کوہستان کرپشن اسکینڈل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اس کی مثال دی۔عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ مریم نواز نے ایک سال کے دوران 80 سے زائد منصوبے شروع کیے ہیں، جن میں سے 50 سے زیادہ مکمل ہو چکے ہیں۔ انہوں نے نوازشریف کے ہیلتھ کارڈ پر اپنی مہر لگوانے والے افراد کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے پوچھا کہ وہ ہمیں کس منہ سے کاپی پیسٹ کے طعنے دے رہے ہیں۔ ان کا یہ also کہنا تھا کہ پنجاب میں تمام کام میرٹ اور شفافیت کے ساتھ ہوتے ہیں اور مریم نواز کے کسی بھی منصوبے پر انگلی نہیں اٹھائی جا سکتی۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ خیبر پختونخوا میں نئی کابینہ کے لیے بولیاں لگ رہی ہیں، جہاں اچھی وزارتوں کے لیے 1 سے 70 کروڑ روپے تک کے ریٹ مقرر ہو رہے ہیں۔ آخر میں عظمیٰ بخاری نے کہا کہ جو لوگ پیسے دے کر وزیروں کے طور پر منتخب ہوتے ہیں، وہ کرپشن نہیں کریں گے تو پھر کیا کریں گے؟