آزاد کشمیر کے وزیراعظم چوہدری انوارالحق نے مستعفی ہونے کے لیے شرطیں عائد کردی ہیں۔
انہوں نے اپنے حامی وزراء اور اراکین اسمبلی سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں ترقیاتی فنڈز اور جاری منصوبوں کی مکمل گارنٹی فراہم کی جائے تاکہ وہ مستعفی ہونے کا فیصلہ کریں۔ اس کے علاوہ، انہوں نے کہا ہے کہ ن لیگ کے وزراء اور ٹکٹ ہولڈرز کو بھی آئندہ انتخابات سے قبل برابری کی بنیاد پر فنڈز دیئے جائیں تاکہ سیاسی مساوی حیثیت قائم رہے۔
دوسری جانب، وزیراعظم آزاد کشمیر کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے درمیان ڈیڈلاک ختم ہوگیا ہے۔ ن لیگ نے قبل از وقت انتخابات کی شرط پر عدم اعتماد کی حمایت کی یقین دہانی کرادی ہے۔ ن لیگ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ نیا وزیراعظم آئینی عہدوں پر التواء کا شکار تعیناتیاں کروائیں گے اور انتخابات کی راہ ہموار کریں گے، جب کہ تحریک عدم اعتماد جمع ہونے کے بعد مسلم لیگ ن کے وزراء مستعفی ہو جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق، اگر وزیراعظم انوارالحق مستعفی نہ ہوئے تو کسی بھی وقت عدم اعتماد کی تحریک لائی جا سکتی ہے۔ اس کے لیے 27 اراکین کی سادہ اکثریت درکار ہے، اور مسلم لیگ ن کی حمایت کے بعد پیپلز پارٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے پاس 36 اراکین کی حمایت موجود ہے۔ ن لیگ کے موقف کے مطابق، تحریک عدم اعتماد کے بعد وہ اپوزیشن بینچز پر بیٹھ جائیں گے، جبکہ انوارالحق اگر مستعفی نہ ہوئے تو نئی تحریک لائی جا سکتی ہے۔