انسداد دہشت گردی عدالت میں بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے جیل میں ملاقات سے متعلق درخواستوں پر سماعت مکمل ہوگئی، اور فیصلہ محفوظ کر لیا گیا ہے۔
عدالت میں جج امجد علی شاہ کی سربراہی میں سماعت ہوئی، جہاں وکلاء نے موقف اپنایا کہ ملاقات ان کا استحقاق ہے اور ویڈیوز لنک کے ذریعے مشاورت ضروری ہے۔وکلاء سلمان اکرم راجہ اور فیصل ملک نے کہا کہ گزشتہ 37 دن سے کسی سے ملاقات نہیں ہوئی، اور علیمہ خان کو بھی ملاقات کی اجازت دی جائے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ عمران خان کی صحت سے متعلق افواہوں پر تشویش ہے۔حکام کا کہنا تھا کہ ملاقات کا عمل جیل حکام کا کام ہے اور جیل مینوئل کے مطابق عمل ہوتا ہے۔ شوکت خانم ہسپتال کے اکاؤنٹس کی بحالی کی درخواست علیمہ خان کے کیس کے ساتھ منسلک کر دی گئی ہے۔
فیصل ملک نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ آج عدالت میں عمران خان کی سات ضمانتیں تھیں، لیکن پراسیکیوشن کی جانب سے ریکارڈ نہ ہونے کا بہانہ بنا کر سماعت 6 دسمبر تک ملتوی کر دی گئی ہے۔عمران خان کے میڈیکل بورڈ کی درخواست کی تاریخ 6 دسمبر مقرر ہے، اور درخواست دائر کی گئی تھی کہ کیسز میں رہنمائی کے لیے ان سے ملاقات کی جائے۔عدالت نے علیمہ خان کے ذاتی اکاؤنٹ منجمد کرنے کا حکم دیا ہے، جبکہ شوکت خانم کے اکاؤنٹس فریز ہونے کی وجہ سے مریضوں کو ادویات فراہم نہیں ہو رہیں، جس پر عدالت نے فوری اکاؤنٹس کھولنے کی استدعا منظور کرنے کا کہا ہے۔
مریضوں کی زندگیوں کو لاحق خطرے کے پیش نظر، امید ہے کہ آج یہ اکاؤنٹس بحال کیے جائیں گے۔
Copy