اسلام آباد: سپریم کورٹ میں بانی چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے خلاف 9 مئی کے مقدمات میں ضمانت کی اپیلوں کی سماعت کرنے والا بینچ تبدیل کر دیا گیا۔
چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں کیس کی سماعت کرنے والے 3 رکنی بینچ میں جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کی جگہ جسٹس حسن اظہر رضوی کو شامل کیا گیا ہے۔ نئے بینچ نے آج سماعت شروع کی، جہاں استغاثہ کے وکیل ذوالفقار نقوی اپنے دلائل پیش کر رہے ہیں۔گزشتہ روز اسپیشل پراسیکیوٹر ذوالفقار نقوی کی طبیعت ناساز ہونے پر سماعت ملتوی کر دی گئی تھی، جس پر عدالت نے آج دوبارہ سماعت کا حکم دیا تھا۔سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے پراسیکیوٹر سے استفسار کیا:کیا ضمانت کیس میں حتمی فائنڈنگ دی جا سکتی ہے؟
سازش کے الزام پر اسی عدالت نے دیگر ملزمان کو ضمانت دی، کیا تسلسل کا اصول اس کیس پر بھی لاگو نہیں ہوگا؟پراسیکیوٹر ذوالفقار نقوی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ضمانت کیس میں عدالتی آبزرویشن ہمیشہ عبوری نوعیت کی ہوتی ہے اور ان کا ٹرائل پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ 1996ء سے اب تک سپریم کورٹ کے فیصلے اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ضمانت میں دی گئی آبزرویشنز عارضی ہوتی ہیں۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ فریقین سمجھ لیں عدالت کیس کے مرکزی حقائق پر بات نہیں کرنے دے گی، میرٹس کا فیصلہ ٹرائل کورٹ نے خود کرنا ہے۔سماعت کے دوران سائفر کیس اور اعجاز چوہدری کی ضمانت کے فیصلوں کے حوالے دیے گئے۔ چیف جسٹس نے یاد دلایا کہ سپریم کورٹ نے 9 مئی کے ایک کیس میں سازش کے الزام کے باوجود ضمانت دی تھی، اس فیصلے کی وضاحت عدالت کو دی جائے۔پراسیکیوٹر نے بتایا کہ سازش کے ایک کیس میں سپریم کورٹ نے 3 ملزمان کو ضمانت دی تھی، جنہیں ایف آئی آر میں نامزد نہیں کیا گیا تھا۔بعد ازاں عدالت نے سماعت میں ساڑھے گیارہ بجے تک وقفہ کر دیا۔