یوکرین کے صدر کے چیف آف اسٹاف کرپشن الزامات کے بعد مستعفی

یوکرین کے صدر کے چیف آف اسٹاف کرپشن الزامات کے بعد مستعفی

یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلینسکی کے ذاتی چیف آف اسٹاف، اینڈری یرمک، نے بدعنوانی کے الزامات کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

صدر زیلینسکی نے اس بات کی تصدیق کی کہ یرمک نے اسکینڈل کے باعث اپنے عہدہ سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔خبروں کے مطابق، جمعے کے روز یوکرین کی انسداد بدعنوانی ایجنسی (NABU) نے یرمک کے گھر پر چھاپہ مارا، جہاں سے تفتیش کاروں کو کچھ شواہد ملنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ یرمک نے اس حوالے سے بیان دیا ہے کہ وہ تفتیش کاروں کے ساتھ مکمل تعاون کر رہے ہیں اور اپنی صفائی کے لیے تیار ہیں۔

یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا ہے جب یوکرین میں بدعنوانی کے خلاف جاری مہمات اور سیاسی بحران عروج پر ہیں، اور حکام اس طرح کے الزامات کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔ یرمک کا استعفیٰ، جو کہ صدر زیلینسکی کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے تھے، ملک میں سیاسی استحکام کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔ یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بدعنوانی کے خلاف مہمات جاری ہیں اور اعلیٰ حکومتی شخصیات بھی اس سے بچ نہیں رہ پا رہی ہیں۔