علیمہ خان کا انکشاف: عمران خان کی رہائی کے بدلے پیش کی گئی شرائط کیا تھیں؟

علیمہ خان کا انکشاف: عمران خان کی رہائی کے بدلے پیش کی گئی شرائط کیا تھیں؟

پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان کی گفتگو پر مبنی ہے، جس میں انہوں نے عمران خان کے موجودہ سیاسی مؤقف، عدالتی کارروائیوں، اور 26ویں آئینی ترمیم کے اثرات پر روشنی ڈالی ہے۔ خبر کے اہم نکات درج ذیل ہیں:

  عمران خان کا مؤقف اور ریاستی دباؤ
علیمہ خان کے مطابق دو سال قبل عمران خان کو کہا گیا تھا کہ وہ تین سال تک خاموش رہیں اور "چوری شدہ مینڈیٹ" کی حکومت کو چلنے دیں۔
عمران خان نے انکار کرتے ہوئے کہا:"میں یزید کے ظلم کے سامنے تین منٹ کے لیے بھی چپ نہیں رہوں گا۔"
  9 مئی، معافی کا مطالبہ، اور ردعمل
عمران خان سے 9 مئی کے واقعات پر معافی مانگنے کا کہا گیا۔انہوں نے کہا:"وہ معافی مانگیں جنہوں نے سی سی ٹی وی فوٹیج چوری کی، لوگوں کو شہید کیا، اور اغوا کیا۔"
  26ویں آئینی ترمیم اور اس کے اثرات
علیمہ خان کے مطابق:26ویں ترمیم 8 فروری کے انتخابات میں دھاندلی کو کور کرنے کے لیے لائی گئی۔یہ ترمیم اعظم نذیر تارڑ اور ن لیگ کی تیار کردہ تھی۔اس ترمیم نے عدلیہ کے اختیارات محدود کیے اور ملٹری کورٹس کو قبول کیا گیا۔سپریم کورٹ نے اس ترمیم کی غلط تشریح کی۔
  عدالتی کارروائیاں اور رکاوٹیں
آج کا دن عمران خان سے ملاقات کے لیے مختص تھا لیکن کسی رہنما کو ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔واپس جانے والوں میں اعظم سواتی، نورالحق قادری، فلک ناز چترالی، سمیع اللہ خان و دیگر شامل تھے۔علیمہ خان نے کہا کہ:ججز نے کئی بار کہا کہ لوگوں کو اندر آنے دیا جائے لیکن حکام نے عدالتی حکم ماننے سے انکار کیا۔اس رویے پر ایک جج عدالت سے ناراض ہو کر اٹھ کر چلے گئے۔
  سیاسی ناانصافی اور مخصوص نشستوں کا مسئلہ
علیمہ خان نے کہا کہ حکومت کی جانب سے عدالتوں پر اثراندازی کی جا رہی ہے اور:"ن لیگ اور پیپلز پارٹی چاہتی ہیں کہ پی ٹی آئی کی مخصوص نشستیں ان کو دے دی جائیں۔"
  عمران خان کا پیغام اور آئندہ کا لائحہ عمل
عمران خان کا پیغام:"جہاں آئین کی پاسداری نہیں ہوتی، وہاں جج بھی کچھ نہیں کر سکتے"۔پارٹی رہنماؤں سے کہا کہ:"اگر ظلم سہہ سکتے ہو تو مضبوطی سے کھڑے رہو، ورنہ عہدے چھوڑ دو۔"علیمہ خان کا کہنا تھا کہ:پرامن احتجاج کیا جائے گا، آئین اور جمہوریت کی بالادستی کے لیے۔جب آزادانہ عدالتی فیصلے ہوں گے، تب ہی عمران خان جیل سے باہر آئیں گے۔