اسرائیل کے مرکزی شہر تل ابیب میں 28 مئی 2025 کی شب وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی جماعت لیکود پارٹی کے ہیڈکوارٹر کے باہر حکومت مخالف مظاہرین نے شدید احتجاج کیا، جو بعد ازاں پولیس سے تصادم میں بدل گیا۔
مظاہرین نے پارٹی دفتر کو علامتی طور پر "قطر کا سفارتخانہ" قرار دیتے ہوئے اس کی دیوار پر قطر کا پرچم اور "قطر ایمبیسی" کیپشن آویزاں کر دیا۔
57 افراد گرفتار، پولیس کا طاقت کا استعمال
احتجاج کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں کم از کم 57 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ پولیس کا مؤقف ہے کہ مظاہرین نے پارٹی کے صدر دفتر Metzudat Zeev پر دھاوا بول دیا تھا، جس کے باعث گرفتاریاں عمل میں آئیں۔ پولیس اہلکاروں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے گھوڑوں کا بھی استعمال کیا، اور کئی افراد کو فٹ پاتھ پر گھسیٹتے ہوئے حراست میں لیا گیا۔
احتجاج کی نوعیت اور مناظر
احتجاج میں شریک مظاہرین نے اورنج جمپ سوٹ پہنے ہوئے تھے اور بعض نے نیتن یاہو کے چہرے والے ماسک لگا رکھے تھے۔ مظاہرین "سول بغاوت" اور "بین گویر ایک دہشت گرد ہے" جیسے نعرے لگا رہے تھے۔ ان کا نشانہ اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بین گویر بھی تھے، جن پر الزام ہے کہ انہوں نے پولیس کو مظاہرین کے ساتھ سخت رویہ اختیار کرنے کی ہدایات دی ہیں۔
احتجاج کا پس منظر — "قطر گیٹ اسکینڈل"
اس شدید احتجاج کی جڑیں ایک متنازعہ اسکینڈل میں ہیں جسے "قطر گیٹ" کہا جا رہا ہے۔ مارچ 2025 میں منظر عام پر آنے والے اس اسکینڈل میں الزام ہے کہ وزیراعظم نیتن یاہو کے قریبی ساتھیوں نے ایک قطری لابنگ فرم کے لیے کام کیا، اور اسرائیل میں قطر کے حق میں پبلک ریلیشننگ کی سرگرمیاں انجام دیں۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے قطر سے مالی فوائد حاصل کیے اور ان سرگرمیوں میں نیتن یاہو کی منظوری بھی شامل تھی۔
قانونی اور سیاسی ردعمل
حکومت مخالف وکلاء کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد کو جنوبی تل ابیب کے سلام پولیس اسٹیشن منتقل کر دیا گیا ہے۔ مبصرین کے مطابق "قطر گیٹ" اسکینڈل نے اسرائیلی سیاست میں بھونچال پیدا کر دیا ہے، اور لیکود پارٹی کی ساکھ شدید متاثر ہو رہی ہے۔
متنازعہ مقام — Metzudat Zeev
یہ احتجاج لیکود پارٹی کے ہیڈکوارٹر Metzudat Zeev کے سامنے ہوا، جو صہیونی رہنما زیف جبوتنسکی کے نام سے منسوب ہے۔ اس عمارت میں جبوتنسکی کی تحریروں کا اشاعتی ادارہ بھی موجود ہے، جس پر مظاہرین نے علامتی طور پر قبضہ کرتے ہوئے اسے "قطر ایمبیسی" میں تبدیل کر دیا۔