ویب ڈیسک: گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر افریقی ملک موریطانیہ سے سعودی عرب جانے والی حج پرواز کے حادثے کی خبر تیزی سے وائرل ہوئی، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ جہاز حادثے کا شکار ہو گیا اور 210 عازمین حج جاں بحق ہو گئے۔
خبر کے ساتھ چند تصاویر بھی شیئر کی گئیں جن میں ایک جہاز کو سمندر میں گرنے اور دوسرے کو زمین پر تباہ حالت میں دکھایا گیا تھا۔تاہم موریطانیہ کی حکومت نے اس خبر کی سختی سے تردید کی ہے۔ وزارت مذہبی امور کے حج امور کے ڈائریکٹر الولی طحٰہ نے تصدیق کی کہ موریطانیہ کے تمام عازمین بخیروعافیت سعودی عرب پہنچ چکے ہیں اور کسی پرواز کو کوئی حادثہ پیش نہیں آیا۔ اسی طرح موریطانیہ ایئرلائنز نے بھی کہا کہ تمام حج پروازیں محفوظ طریقے سے مکمل ہو چکی ہیں اور انہیں یا حکومت کو کسی حادثے کی اطلاع نہیں ملی۔
فیکٹ چیک کے دوران یہ بھی معلوم ہوا کہ وائرل تصاویر حالیہ نہیں بلکہ پرانی ہیں؛ سمندر میں گرنے والے جہاز کی تصویر تقریباً چار سال پرانی ہے جبکہ دھویں میں لپٹے جہاز کی تصویر 2018 کی ہے۔یہ واضح ہوتا ہے کہ موریطانیہ کی حج پرواز کے حادثے کی خبر جھوٹا پروپیگنڈا ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ ایسے جھوٹے دعوے سوشل میڈیا پر پھیلانے سے نہ صرف عوام میں غیر ضروری خوف و ہراس پیدا ہوتا ہے بلکہ اصل متاثرین کے جذبات کو بھی شدید نقصان پہنچتا ہے۔حکومت اور متعلقہ ادارے عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ ایسے غیر مصدقہ اور من گھڑت خبروں پر یقین نہ کریں اور معلومات کے لیے معتبر ذرائع سے رجوع کریں۔