معاشی تحقیقاتی ادارے اکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈویلپمنٹ نے کپاس کی پیداوار میں کمی کے حوالے سے ایک الرٹ جاری کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ رواں سال کپاس کی پیداوار 30 فیصد سے زائد کم ہوئی ہے، جو کہ معیشت کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔
ادارے کی رپورٹ کے مطابق، کپاس کی پیداوار میں کمی کی وجہ سے ملک کی زرعی معیشت اور متعلقہ صنعتوں پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کپاس کی پیداوار میں اضافہ کرنے کے لیے اگیتی کاشت کی ضرورت ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر کپاس کی کاشت اپریل کے وسط تک کی جائے تو اس سے پیداوار میں بہتری آ سکتی ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے بچنے اور فصل کو محفوظ رکھنے کے لیے جلدی کاشت کرنا ضروری ہے۔ اگر کپاس کی دیر سے بوائی کی جاتی ہے تو یہ گلابی سنڈی کے حملوں کا باعث بن سکتی ہے، جو فصل کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
مزید یہ کہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کپاس کی بوائی اگر 15 اپریل تک کی جائے تو پیداوار میں 14 سے 35 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے، اور اس سے کسانوں کو فی ایکڑ 1.5 لاکھ روپے تک کا منافع حاصل ہو سکتا ہے۔پنجاب حکومت نے کپاس کی بروقت بوائی کے لیے 25 ہزار روپے کی مالی امداد کا اعلان کیا ہے، جسے خوش آئند قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ کپاس کی بہتر پیداوار نہ صرف معیشت کے لیے فائدہ مند ہو گی بلکہ یہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور غربت میں کمی لانے کا سبب بھی بن سکتی ہے۔