پاکستان میں کپاس کی پیداوار، قیمتوں اور مارکیٹ کے حالات کے بارے میں تفصیلی تجزیہ فراہم کرتی ہیں۔
پیداوار میں کمی کا رجحان:
1 سے 15 اکتوبر کے دوران کپاس کی پیداوار 30 فیصد کم ہوئی ہے۔مجموعی ملکی پیداوار گزشتہ سال کے مقابلے میں اب 22 فیصد زائد رہ گئی ہے، جو کہ پہلے 49 فیصد زائد تھی۔پنجاب میں پیداوار 28 فیصد زائد، سندھ میں 19 فیصد زائد سے کم ہو گئی ہے۔
آئندہ کے خدشات:
اگلے مہینے آنے والی رپورٹ میں کپاس کی پیداوار میں مزید کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔یہ کمی روئی، کاٹن سیڈ اور آئل کیک کی قیمتوں میں تیزی کا سبب بن سکتی ہے۔
مارکیٹ کی صورتحال:
کپاس کی پیداوار کے کم ہونے کے سبب کاٹن سیڈ اور آئل کیک کی قیمتوں میں 100 تا 200 روپے فی من اضافہ ہوا ہے۔روئی کی قیمتوں میں بھی اضافے کا امکان ہے۔
اعداد و شمار کے متضاد رپورٹس:
پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے) اور کراپ رپورٹنگ سروسز پنجاب کے اعدادوشمار میں بڑی فرق پایا جاتا ہے، خاص طور پر پیداوار کے حوالے سے۔پی سی جی اے کے مطابق، پنجاب میں پیداوار 15لاکھ 20ہزار گانٹھیں، جبکہ کراپ رپورٹ کے مطابق یہ 30 لاکھ 81ہزار گانٹھیں ہے۔
کاروباری صورتحال:
ملک بھر میں 520 جننگ فیکٹریاں فعال ہیں۔ٹیکسٹائل ملوں اور برآمد کنندگان نے قابل ذکر مقدار میں روئی خریدی ہے، جو مارکیٹ کی سرگرمیوں کو ظاہر کرتا ہے۔