ایلون مسک نے ایکس فروخت کردیا، خریدار xAI

ایلون مسک نے ایکس فروخت کردیا، خریدار xAI

ایلون مسک نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم، جسے پہلے ٹوئٹر کہا جاتا تھا اور اب ایکس (X) کے نام سے جانا جاتا ہے، کو اپنی مصنوعی ذہانت کی کمپنی xAI کو 33 ارب ڈالر کی اسٹاک ڈیل کے ذریعے فروخت کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یہ معاہدہ مسک کی مختلف کمپنیوں کو آپس میں یکجا کرنے کا ایک حصہ ہے جس کا مقصد مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی تربیت کو مزید آسان بنانا ہے۔ اس معاہدے کے نتیجے میں xAI کی قیمت 80 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے، جبکہ ایکس کی قیمت 33 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ایلون مسک کا کہنا ہے کہ اس انضمام سے "گروک" نامی مصنوعی ذہانت ماڈل کی تربیت میں مدد ملے گی، جو کہ xAI نے حالیہ برسوں میں تیار کیا ہے۔ اس کے علاوہ، ایکس کے پلیٹ فارم کو xAI کے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کو مزید تقسیم کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا، جس سے دونوں کمپنیوں کے لیے ترقی کے نئے دروازے کھلیں گے۔تاہم، ایکس یا xAI کے ترجمان نے فوری طور پر کسی تبصرے کا جواب نہیں دیا، اور معاہدے کی تفصیلات ابھی تک واضح نہیں ہو سکیں، جیسے کہ سرمایہ کاروں کو کس طرح معاوضہ دیا جائے گا اور ایکس کے رہنماؤں کو نئے ادارے میں کس طرح ضم کیا جائے گا۔ مزید برآں، ریگولیٹری نگرانی کا امکان بھی ابھی تک واضح نہیں ہو سکا۔

ایلون مسک کی xAI اسٹارٹ اپ نے حالیہ دو سالوں میں 10 ارب ڈالر کی فنڈنگ حاصل کی تھی، اور کمپنی کی قیمت 75 ارب ڈالر لگائی گئی تھی۔ اس کمپنی کے مقابلے میں اوپن اے آئی نے اپنی ترقی کے سلسلے میں بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔فروری میں، ایلون مسک نے اوپن اے آئی کے لیے 97.4 ارب ڈالر کی پیشکش کی تھی، جو مسترد کر دی گئی تھی۔ اوپن اے آئی کا کہنا تھا کہ یہ اسٹارٹ اپ فروخت کے لیے نہیں ہے۔ مسک نے 2015 میں اوپن اے آئی کو سی ای او سیم آلٹمین کے ساتھ مشترکہ طور پر قائم کیا تھا۔مسک نے 2022 میں ٹوئٹر کو 44 ارب ڈالر میں خریدنے کا معاہدہ کیا تھا، جس سے اس کی عوامی کمپنی کی حیثیت کا خاتمہ ہو گیا تھا۔